
غزہ جنگ بندی دوبارہ بحال، اسرائیل کے حملے میں 42 فلسطینی شہید
غزہ میں 42 فلسطینی شہید، صیہونی حملوں کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ بحال — مصر، قطر اور ترکی نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

غزہ میں 42 فلسطینی شہید، صیہونی حملوں کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ بحال — مصر، قطر اور ترکی نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

امریکی قیادت نے ہنگامی طور پر مداخلت کی ہے تاکہ غزہ امن معاہدہ خطرے میں نہ پڑے۔

اسرائیلی فوج کے تازہ فضائی حملوں نے غزہ میں امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
38 فلسطینی شہید، 143 زخمی، رفح کراسنگ بند، اقوام متحدہ کی تشویش —
جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی۔

کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی فوج کی کولمبیا کے ساحلی پانیوں میں مبینہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ صدر نے کہا کہ امریکہ نے ایک بے گناہ ماہی گیر کو نشانہ بنایا اور کولمبیا کسی بیرونی طاقت کی مداخلت قبول نہیں کرے گا۔

یمن کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل عبدالکریم الغماری اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ حوثی حکومت نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے “جنگی جرم” قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل نے حملے کو دفاعی کارروائی کہا ہے۔
یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نئی سطح پر لے آیا ہے جہاں ایران، ترکی، اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ہینلے اینڈ پارٹنرز کی 2025 کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں ایک بار پھر ایشیائی ممالک کی برتری برقرار ہے۔

حماس نے غزہ امن معاہدے کے تحت مزید 4 یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دیں، انسانی بنیادوں پر اعتماد سازی کا نیا مرحلہ۔

چین نے پاکستان پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین آہنی دوستی ناقابلِ شکست ہے، امریکا سے تعلقات سے مفادات متاثر نہیں ہوں گے۔

حماس کی جانب سے انسانی ہمدردی کے تحت اقدام فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کیں جو جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔یہ اقدام 20 یرغمالیوں کی رہائی کے ایک روز بعد عمل میں آیا جب حماس نے 4 اسرائیلی مغویوں کی لاشیں بین

شرم الشیخ میں امریکی صدر ٹرمپ، مصری صدر السیسی، ترک صدر اردوان اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد نے غزہ امن معاہدے پر تاریخی دستخط کیے۔
یہ معاہدہ اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور تعمیرِ نو فنڈ کے قیام کا ضامن ہے۔
عالمی رہنماؤں نے اسے مشرقِ وسطیٰ میں امن، ترقی اور استحکام کے نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔