سپریم لیڈر شدید زخمی مگر ہوش میں، قاصدوں کے ذریعے پیغام رسانی جاری، ایران میں اصل فیصلے پاسدارانِ انقلاب کر رہی، نیویارک ٹائمز

نیویارک ٹائمز کا دعویٰ: ایران میں اصل فیصلے پاسداران انقلاب کر رہے ہیں، سپریم لیڈر زخمی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سپریم لیڈر شدید زخمی مگر ہوش میں، قاصدوں کے ذریعے پیغام رسانی جاری، ایران میں اصل فیصلے پاسدارانِ انقلاب کر رہی، نیویارک ٹائمز

تہران: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں اہم ریاستی فیصلے عملی طور پر پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈروں کے ایک گروپ کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، جبکہ سپریم لیڈر کی حیثیت اب زیادہ تر منظوری تک محدود ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایک فضائی حملے میں زخمی ہو گئے تھے اور اب بھی طبی نگرانی میں ہیں، تاہم وہ ہوش میں ہیں اور اہم امور سے باخبر رکھے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای تک پیغامات روایتی ذرائع کے بجائے ہاتھ سے لکھ کر قاصدوں کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی یا امریکی نگرانی سے بچا جا سکے، جبکہ وہ تحریری طور پر ہی فیصلوں کی منظوری دیتے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کی کارروائی
ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں کارروائی تیز کرنے کا حکم دیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر عوامی منظرنامے سے دور رہتے ہوئے ایک طرح کے "بورڈ آف ڈائریکٹرز” کے انداز میں حکومت چلا رہے ہیں، جس میں مرکزی کردار پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کا ہے۔

ایرانی سیاستدان عبدالرضا دیواری کے مطابق یہی عسکری قیادت دفاع اور خارجہ پالیسی سمیت اہم معاملات پر فیصلے کرتی ہے جبکہ سپریم لیڈر ان فیصلوں کی توثیق کرتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ مارچ میں ہونے والے ایک حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہو گئے تھے جبکہ ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے عسکری ساتھیوں کے ہمراہ جاں بحق ہو گئے تھے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے سے متعلق تجاویز سپریم لیڈر کو پیش کی جا چکی ہیں اور حتمی فیصلہ انہی کی رائے کے مطابق کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں مذاکراتی عمل کی قیادت بھی قالیباف کے ہاتھ میں آ گئی ہے جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کردار پس منظر میں چلا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ایران کے اندر طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں عسکری قیادت کا کردار مزید مضبوط ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ سفارتی اور سیاسی عمل نئے انداز میں ترتیب دیا جا رہا ہے۔

 
[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]