ایران سے درآمدات پاکستان — رواں مالی سال میں اضافہ برقرار

ایران سے درآمدات پاکستان کے تحت تیل اور سامان کی ترسیل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان کی ایران سے درآمدات میں معمولی اضافہ، تجارتی حجم بڑھانے پر اتفاق

ایران سے درآمدات پاکستان کے حوالے سے جاری مالی سال میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت اب بھی ایران سے آنے والی اشیاء پر انحصار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ کے دوران ایران سے درآمدات 78 کروڑ ڈالرز تک پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں ایران سے درآمدات کا حجم تقریباً 76 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز تھا، جبکہ اس سال یہ بڑھ کر 78 کروڑ ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران سے درآمدات پاکستان میں یہ تقریباً 2 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط مستحکم ہو رہے ہیں۔

تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور Iran کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالرز تک بڑھانے پر اتفاق ہو چکا ہے، جو کہ دونوں ممالک کی معاشی پالیسیوں میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس معاہدے کے تحت نہ صرف درآمدات بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

گزشتہ مالی سال کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایران سے درآمدات پاکستان میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ مالی سال 2024-2025 کے دوران ایران سے درآمدات ایک ارب 22 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گئی تھیں، جبکہ اس سے ایک سال قبل یعنی 2023-2024 میں یہ حجم ایک ارب 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز تھا۔ اس طرح ایک سال کے دوران تقریباً 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین معاشیات کے مطابق ایران سے پاکستان کی درآمدات میں زیادہ تر توانائی، پیٹرولیم مصنوعات، اور دیگر صنعتی خام مال شامل ہوتا ہے، جو ملکی صنعتوں کیلئے نہایت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران سے درآمدات پاکستان کا تسلسل برقرار ہے، کیونکہ یہ اشیاء ملکی معیشت کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

تاہم اس کے برعکس پاکستان کی جانب سے ایران کو برآمدات کا حجم انتہائی کم رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران ایران کیلئے پاکستانی برآمدات تقریباً صفر رہیں، جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی پابندیاں اور بینکنگ چینلز کی عدم دستیابی تھی۔

United States کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے باعث بینکنگ لین دین میں مشکلات پیدا ہوئیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کیلئے ایران کو برآمدات کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران سے درآمدات پاکستان کا توازن ایک طرف جھکا ہوا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ چینلز بحال ہو جائیں اور پابندیوں میں نرمی آئے تو پاکستان اپنی برآمدات کو بھی بڑھا سکتا ہے، جس سے تجارتی توازن بہتر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بارٹر ٹریڈ (اشیاء کے بدلے اشیاء) کے امکانات بھی زیر غور ہیں، جو موجودہ صورتحال میں ایک مؤثر حل ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان جغرافیائی قربت بھی تجارت کیلئے ایک اہم عنصر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحد موجود ہے، جس کے ذریعے تجارت کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ ایران سے درآمدات پاکستان میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک اس جغرافیائی فائدے کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومتی سطح پر بھی اس حوالے سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ دوطرفہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔ تجارتی وفود کے تبادلے، سرحدی منڈیوں کا قیام، اور تجارتی معاہدوں کی بہتری ایسے اقدامات ہیں جو مستقبل میں تجارت کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

عوامی سطح پر بھی اس پیش رفت کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تجارت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے اور معیشت کو استحکام ملے گا۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران سے درآمدات پاکستان ایک اہم معاشی پہلو ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کیلئے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر تجارتی رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں تو یہ تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں اور دونوں ممالک کو اس کے مثبت نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]