اسلام آباد پولیس بھرتی: فزیکل ٹیسٹ کے دوران امیدوار جاں بحق

اسلام آباد پولیس بھرتی کے دوران فزیکل ٹیسٹ میں امیدوار جاں بحق
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد پولیس میں بھرتی کے دوران امیدوار کی اچانک موت، فزیکل ٹیسٹ کے دوران گر کر جاں بحق

اسلام آباد پولیس بھرتی کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 25 سالہ امیدوار اسحاق فزیکل ٹیسٹ کے دوران جان کی بازی ہار گیا۔

اسلام آباد پولیس میں کانسٹیبل بھرتی کے لیے جاری جسمانی فٹنس ٹیسٹ کے دوران ایک نوجوان امیدوار اچانک گر کر جاں بحق ہوگیا۔ افسوسناک واقعے نے نہ صرف بھرتی کے موجودہ نظام بلکہ امیدواروں کے طبی معائنے، حفاظتی انتظامات اور ہنگامی طبی سہولیات پر بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے امیدوار کی شناخت اسحاق ولد محمد ایاز خان کے نام سے ہوئی ہے، جن کی عمر تقریباً 24 سے 25 سال تھی۔ وہ ضلع لکی مروت کے علاقے کوٹکہ خان خیل، مٹھو غزنی خیل، ڈاکخانہ سرائے نورنگ کے رہائشی تھے اور اسلام آباد پولیس میں بھرتی کے لیے جسمانی ٹیسٹ میں شریک تھے۔عینی شاہدین کے مطابق پولیس لائنز میں دوڑ کے دوران اسحاق اچانک زمین پر گر پڑا، جس کے بعد اسے پولیس لائنز کی ایمبولینس کے ذریعے پمز اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم اسپتال ذرائع کے مطابق نوجوان راستے ہی میں دم توڑ چکا تھا۔
واقعے کے بعد سب سے اہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا پولیس میں بھرتی کے لیے صرف تیز دوڑ ہی جسمانی فٹنس کا مکمل معیار ہے، یا امیدواروں کی مجموعی صحت کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے؟
اس سانحے نے ایک اور اہم سوال کو بھی جنم دیا ہے کہ جب سینکڑوں امیدوار سخت جسمانی مشقت پر مشتمل فٹنس ٹیسٹ دے رہے تھے تو کیا دوڑ کے مقام پر ماہر ڈاکٹرز، ایمرجنسی میڈیکل ٹیم اور زندگی بچانے والے آلات موجود کیوں نہیں تھے؟ کیونکہ ایسے حالات میں چند منٹ کی بروقت طبی امداد بھی کئی قیمتی جانیں بچا سکتی ہے، اس لیے ہر بڑے جسمانی ٹیسٹ کے دوران تربیت یافتہ طبی عملہ اور مکمل ایمرجنسی سہولیات کی موجودگی ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔
ڈاکٹرزکا کہنا ہے کہ سخت جسمانی مشقت سے قبل امیدواروں کا مکمل طبی معائنہ انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ دل کی پوشیدہ بیماری، غیر تشخیص شدہ ہائی بلڈ پریشر، ہیٹ اسٹروک کے خطرات یا دیگر طبی پیچیدگیاں بظاہر صحت مند نوجوانوں میں بھی موجود ہو سکتی ہیں، جو شدید جسمانی دباؤ کے دوران جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔
زرائع کے مطابق دنیا کے متعدد ممالک میں پولیس بھرتی کا نظام صرف ایک دوڑ تک محدود نہیں بلکہ مرحلہ وار جسمانی اور طبی جانچ پر مشتمل ہوتا ہے۔ پہلے امیدواروں کی مکمل میڈیکل اسکریننگ کی جاتی ہے، اس کے بعد برداشت، طاقت، پھرتی اور دیگر جسمانی صلاحیتوں کا الگ الگ جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
اس واقعے کے بعد اسلام آباد پولیس کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ بھرتیوں میں کارڈیک اسکریننگ (دل کا معائنہ)، بلڈ پریشر، ای سی جی اور دیگر بنیادی طبی ٹیسٹ لازمی قرار دیے گئے تھے یا نہیں، اور اگر کیے گئے تھے تو ان کا معیار کیا تھا۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ فٹنس ٹیسٹ کے دوران موقع پر موجود طبی سہولیات، ڈاکٹرز اور ایمرجنسی رسپانس کا معیار کیا تھا اور اگر ایسی سہولیات موجود نہیں تھیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
تاحال اسلام آباد پولیس کی جانب سے نوجوان امیدوار کی موت کی حتمی وجہ سے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم اور طبی رپورٹ کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آئے گی، تاہم یہ افسوسناک واقعہ پولیس بھرتی کے جسمانی فٹنس نظام، طبی اسکریننگ اور ایمرجنسی تیاریوں پر سنجیدہ نظرثانی کا تقاضا کر رہا ہے

READ MORE FAQS
  1. اسلام آباد پولیس بھرتی میں کیا واقعہ پیش آیا؟

فزیکل ٹیسٹ کے دوران ایک 25 سالہ امیدوار اچانک گر کر بے ہوش ہوگیا اور بعد ازاں انتقال کر گیا۔

  1. جاں بحق امیدوار کا نام کیا تھا؟

پولیس کے مطابق امیدوار کا نام اسحاق تھا۔

  1. امیدوار کا تعلق کہاں سے تھا؟

اسحاق کا تعلق سرائے نورنگ، ضلع لکی مروت، خیبر پختونخوا سے تھا۔

  1. امیدوار کی موت کیسے ہوئی؟

پولیس کے مطابق وہ دوڑ کے دوران بے ہوش ہوا جبکہ ڈاکٹروں نے اسپتال پہنچنے پر اس کی موت کی تصدیق کی۔ حتمی طبی وجہ متعلقہ رپورٹ کے بعد واضح ہوگی۔