اسرائیل کا لبنان پر حملہ، جنگ بندی کے باوجود 16 افراد جاں بحق
اسرائیل کا لبنان پر حملہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کا سبب بن گیا ہے۔ جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے باوجود جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 16 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعہ کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے شہر نباتیہ اور اس کے نواحی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے بعد مختلف مقامات پر شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہری آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
رپورٹس کے مطابق حملوں کا دائرہ صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رہا بلکہ ضلع نبطیہ کے الشرقیہ، حروف، کفار سر، کفار تبنیت، نباتیہ الفوقا اور ریحان کی پہاڑیوں سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی حکام کے مطابق حملوں سے رہائشی عمارتوں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
ذرائع کے مطابق کفرجوز نباتیہ کے علاقے البیدر محلے پر ہونے والے ایک فضائی حملے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ حملہ ایک رہائشی علاقے میں کیا گیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
اسی طرح الشرقیہ اور دوئیر کے درمیان واقع الاشامیہ کے علاقے میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا جس سے عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اس حملے میں کم از کم چار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے۔
کفار سر کے علاقے میں ہونے والے ایک اور اسرائیلی فضائی حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ادھر ایک اسرائیلی ڈرون نے دوئیر میونسپلٹی کی عمارت کے قریب ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر متعدد کوششیں جاری ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی عمل اور خطے میں جنگ بندی کی امیدوں کے باوجود جنوبی لبنان میں تازہ حملوں نے امن کی کوششوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران بارہا فضائی حملوں، راکٹ فائرنگ اور سیکیورٹی جھڑپوں کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث خطے میں ایک بڑے تصادم کے خدشات اب بھی موجود ہیں۔
عالمی برادری کی جانب سے دونوں فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع کے پرامن حل پر زور دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شہری آبادی کو نشانہ بنانے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حالیہ کشیدگی پر قابو نہ پایا گیا تو لبنان اور اسرائیل کے درمیان تنازع ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
READ MORE FAQS
- اسرائیل کے لبنان پر حملے میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 16 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
- حملے لبنان کے کس علاقے میں ہوئے؟
حملے جنوبی لبنان کے شہر نباتیہ اور ضلع نبطیہ کے مختلف علاقوں میں کیے گئے۔
- سب سے زیادہ ہلاکتیں کہاں ہوئیں؟
کفرجوز نباتیہ کے البیدر محلے میں ہونے والے حملے میں آٹھ افراد جاں بحق ہوئے۔
- کیا جنگ بندی معاہدہ موجود تھا؟
جی ہاں، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی کوششیں جاری تھیں، تاہم اس کے باوجود حملے کیے گئے۔








