جنگ کے بعد امن کا سورج طلوع: پاکستان کی میزبانی میں جنیوا امن معاہدہ تقریب کا اعلان
جنگ کے بعد امن کا سورج طلوع ہونے کے تاریخی اعلان کے ساتھ عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد اب دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ لمحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے، جس نے عالمی سیاست میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کی باضابطہ تقریب 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی جس کی میزبانی پاکستان کرے گا، جو ملک کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے، اور یہ معاہدہ اسی سفارتی تسلسل کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں پاکستان کی قیادت اور سفارتی ٹیم نے مسلسل کوششیں کیں تاکہ فریقین کو ایک میز پر لایا جا سکے۔
وزیراعظم نے سابق وزیراعظم نواز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت آصف علی زرداری سمیت تمام سیاسی قیادت کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس عمل میں تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اتفاق رائے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے خاص طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امن کے قیام کے لیے غیر معمولی کوششیں کیں۔ اسی طرح نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی کاوشوں کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس معاہدے سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کو اس تاریخی عمل میں میزبان کا کردار ملنا باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی معیشت پر وقتی دباؤ ضرور آیا، لیکن اب امید ہے کہ اس معاہدے کے بعد معاشی صورتحال بہتر ہوگی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ پیش رفت عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے اور اسے ایک اہم سفارتی سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
READ MORE FAQS
Q1: یہ معاہدہ کس بارے میں ہے؟
A: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام سے متعلق ہے۔
Q2: تقریب کہاں ہوگی؟
A: تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب جنیوا میں ہوگی۔
Q3: میزبانی کون کرے گا؟
A: پاکستان اس تقریب کی میزبانی کرے گا۔
Q4: وزیراعظم نے کن شخصیات کو سراہا؟
A: فیلڈ مارشل عاصم منیر، بلاول بھٹو، نواز شریف، آصف علی زرداری اور دیگر رہنماؤں کو۔








