خیبر سیکیورٹی آپریشن — 22 دہشتگرد ہلاک، فائرنگ سے 10 سالہ بچہ شہید

خیبر سیکیورٹی آپریشن کے دوران فورسز کی کارروائی کا منظر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ضلع خیبر میں بڑا آپریشن، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 22 دہشتگرد ہلاک

خیبر سیکیورٹی آپریشن کے دوران پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ضلع خیبر میں 22 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس کا مقصد علاقے میں موجود دہشتگرد عناصر کا خاتمہ اور امن و امان کی بحالی تھا۔

‫پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ Inter-Services Public Relations (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر سیکیورٹی آپریشن اس وقت شروع کیا گیا جب سیکیورٹی اداروں کو علاقے میں خوارج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی۔ اس اطلاع کے بعد فورسز نے فوری طور پر مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔‬

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کا تعلق بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الخوارج سے تھا، جو ملک میں دہشتگردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ خیبر سیکیورٹی آپریشن کے دوران فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کو گھیرے میں لے کر مؤثر کارروائی کی۔

رپورٹ کے مطابق جب دہشتگردوں کو اپنی گرفتاری کا خدشہ ہوا تو انہوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں ایک 10 سالہ معصوم بچہ شہید ہو گیا۔ اس افسوسناک واقعے نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ عوام کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر سیکیورٹی آپریشن کا مقصد نہ صرف دہشتگردوں کا خاتمہ تھا بلکہ علاقے میں موجود سہولت کاروں اور نیٹ ورکس کو بھی ختم کرنا تھا۔ فورسز نے آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا ہے، جو دہشتگردی کی مزید کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا تھا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز دہشتگردی کے خاتمے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے دہشتگردوں کو اچانک نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا۔ خیبر سیکیورٹی آپریشن بھی اسی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس نے مطلوبہ نتائج حاصل کیے۔

علاقہ مکینوں نے سیکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے آپریشنز جاری رکھے جائیں گے تاکہ دہشتگرد عناصر کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی اس آپریشن کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس طرح کی کامیابیاں ملک کے استحکام کیلئے نہایت اہم ہیں۔ خیبر سیکیورٹی آپریشن نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔

انسانی حقوق کے ماہرین نے اس واقعے میں معصوم بچے کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو فوری امداد فراہم کی جائے اور ذمہ دار عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ خیبر سیکیورٹی آپریشن کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، اور داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے بعد دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے، اور ان کی صلاحیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ دہشتگردی کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، اس لیے مسلسل نگرانی اور کارروائی ضروری ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خیبر سیکیورٹی آپریشن نہ صرف ایک کامیاب فوجی کارروائی ہے بلکہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے عزم کا واضح اظہار بھی ہے۔ یہ آپریشن ملک میں امن کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]