محسن نقوی اور شرجیل میمن کی ملاقات میں وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تعاون کو مزید مؤثر بنانے، امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے اور منشیات کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات میں ملکی سلامتی، بین الصوبائی ہم آہنگی، عوامی خدمات کی بہتری اور جرائم کے خاتمے سمیت متعدد اہم امور زیر غور آئے۔
ملاقات کے دوران کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں امن و امان کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں اور معاشرتی امن کو نقصان پہنچانے والے گروہوں کے خلاف مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سندھ حکومت اور سندھ پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود سندھ پولیس نے پیشہ ورانہ مہارت اور جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر اور ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیوں کو قابل تعریف قرار دیا۔
شرجیل انعام میمن نے اس موقع پر کہا کہ قومی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مضبوط رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ، جرائم کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی۔
اجلاس میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے نوجوان نسل کو منشیات کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس مقصد کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائیوں کو مزید فعال بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
محسن نقوی نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کو امن و امان کے قیام اور منشیات کے خلاف مہم میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ اور بہتر طرز حکمرانی کے لیے تمام اداروں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت کام کرنا ہوگا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تعاون اور رابطوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ عوامی مسائل کے حل، بہتر سروس ڈیلیوری اور امن و استحکام کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔
سیاسی اور انتظامی حلقوں کے مطابق یہ ملاقات وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جس کے مثبت اثرات عوامی فلاح، سکیورٹی اور ترقیاتی منصوبوں پر مرتب ہونے کی توقع ہے۔








