سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچہ، سرکاری اداروں میں سالانہ ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے: محمد اورنگزیب کا پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب

محمد اورنگزیب کا پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب: سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچہ، سرکاری اداروں میں سالانہ ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے،نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھ کر 1.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ہے: محمد اورنگزیب کا پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب

اسلام آباد : وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ قرضوں پر سود کی ادائیگی حکومت کا سب سے بڑا خرچہ ہے، تاہم بہتر مالی منصوبہ بندی کے ذریعے گزشتہ سال سود کی مد میں 850 ارب روپے کی بچت کی گئی، جبکہ رواں مالی سال بھی اس اخراجات میں مزید کمی کی جائے گی۔

پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر رہیں، جبکہ رواں مالی سال ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات، ایف بی آر کی ٹرانسفارمیشن، کمپلائنس اور انفورسمنٹ کے ذریعے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی جاری ہیں۔

محمد اورنگزیب کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی شرکت کی ہے اور اب تک 24 سرکاری ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی وجہ سے یوٹیلٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا کیونکہ وہاں دی جانے والی سبسڈی میں کرپشن ہو رہی تھی۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کہا کہ زیادہ ڈیوٹیز معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، اس لیے کاروباری لاگت کم کرنے کے لیے ڈیوٹیز کو معقول بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھ کر 1.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت آئندہ دو ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کرے گی۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق اگرچہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے، تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہدف کے اندر ہے۔

محمد اورنگزیب کا پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب میں بتایا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی ہے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 1 لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جبکہ گزشتہ 18 ماہ میں سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی
عالمی منڈی میں خام تیل سستا، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی متوقع

محمد اورنگزیب کا پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کی تیسری سب سے بڑی فری لانسر فورس موجود ہے اور نوجوانوں کو سسٹم اور پلیٹ فارم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے لیے آبادی پر قابو پانا ناگزیر ہے کیونکہ سالانہ 2.55 فیصد آبادی میں اضافے کے ساتھ پائیدار ترقی ممکن نہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب میں بتایا کہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اصلاحات پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ آئی ایف سی نے 3.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری مکمل کی جبکہ ٹیلی نار ٹرانزیکشن میں 400 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔

انہوں نے ریکوڈک منصوبے کے فوائد بتاتے ہوئے کہا کہ 2028 میں برآمدات کا آغاز ہوگا اور پہلے سال 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔ ان کے مطابق چین کی مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری بڑھائی جا رہی ہے اور کرنسی تبدیلی سے 2.5 فیصد فائدہ حاصل ہوگا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر نجکاری محمد علی نے کہا کہ ماضی کی غلط معاشی حکمت عملیوں نے نجی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کرنے کا ذریعہ ہے۔

وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ خوشحالی کا واحد راستہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اشرافیہ نواز پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سستی بجلی، گیس اور ٹیکس چھوٹ مخصوص طبقے تک محدود ہے۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے ساتھ جے ایف-17 طیارے برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویتنام کی برآمدات 408 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات اب بھی 40 ارب ڈالر کے قریب ہیں، جس میں بہتری کی اشد ضرورت ہے۔

 

متعلقہ خبریں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]