پہلگام واقعہ پر بھارتی میڈیا کا ردعمل، سیکیورٹی ناکامیوں پر مودی حکومت تنقید کی زد میں
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے بھارتی میڈیا میں بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، جس نے سیکیورٹی انتظامات اور حکومتی کارکردگی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بھارتی جریدہ The Tribune نے اپنی رپورٹ میں اس معاملے پر حکومت کی پالیسیوں اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کو ایک سال گزر جانے کے باوجود ذمہ دار سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔ جریدے نے نشاندہی کی کہ اتنے بڑے حملے کو روکنے میں ناکامی کے باوجود سیکیورٹی حکام کے احتساب کا فقدان کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
مزید برآں، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد بھارتی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام کی خامیوں پر پہلے ہی متعدد حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا چکی ہے۔ ناقدین کے مطابق پیشگی اطلاعات اور سیکیورٹی پروٹوکول کے باوجود ایسے واقعات کا پیش آنا نظام میں موجود کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔
The Tribune کے مطابق واقعے کے بعد ہونے والے کل جماعتی اجلاس میں بھارتی حکومت نے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کی ناکامی کا اعتراف بھی کیا تھا، تاہم اس کے باوجود عملی اقدامات کی کمی پر تشویش برقرار ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حساس واقعات میں شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کے بغیر عوامی اعتماد بحال کرنا مشکل ہوتا ہے۔
سیاسی و سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف علاقائی صورتحال پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مؤثر سیکیورٹی حکمت عملی، بروقت انٹیلی جنس شیئرنگ اور واضح احتسابی نظام ہی مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر بھارتی میڈیا میں اٹھنے والے یہ سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر مزید وضاحت اور شفافیت کی ضرورت ہے، تاکہ نہ صرف ذمہ داران کا تعین ہو سکے بلکہ آئندہ کے لیے سیکیورٹی نظام کو بھی مضبوط بنایا جا سکے۔

