
انڈونیشیا کے صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمدگارڈ آف آنرسےنوازا گیا
انڈونیشیا کے صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر خصوصی استقبالیہ اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

انڈونیشیا کے صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد پر خصوصی استقبالیہ اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے 54ویں قومی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات تاریخی، مضبوط اور قابلِ فخر شراکت داری پر مبنی ہیں۔ انہوں نے یو اے ای کی قیادت شیخ محمد بن زاید النہیان اور شیخ محمد بن راشد المکتوم کو قومی دن کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں میں یو اے ای نے غیر معمولی ترقی کی ہے اور خطے میں امن و خوشحالی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد مجموعی ادائیگی 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحاتی ایجنڈے پر مؤثر عملدرآمد دکھایا ہے۔ نئی قسط موسمیاتی ریزیلینس اور اصلاحات میں تیزی کے لیے معاون ہوگی۔

سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغانستان طالبان اور بھارت کو پاکستان کی سرحدی سلامتی پر واضح اور سخت پیغام دیا۔ جی ایچ کیو میں افسران سے خطاب کے دوران انہوں نے بڑھتے خطرات اور دفاعی تیاریوں پر زور دیا۔

سی ٹی ڈی نے را کے دہشتگرد گرفتار کر کے لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور میں بڑا حملہ ناکام بنا دیا۔

انڈونیشیا کے صدر کا پاکستان دورہ دوطرفہ تعلقات کے نئے دور کی شروعات سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان اور مصر نے اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور مصر کا مشترکہ معاشی لائحہ عمل پر اتفاق کیا ہے۔ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی ملاقات مصر کے وزیر سرمایہ کاری حسن الخطيب سے ہوئی، جس میں ٹیکسٹائل، زراعت اور فارما کے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے اور ویزا سہولیات بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔

انڈونیشیا کے صدر کا دورہ پاکستان کل دو روزہ دورہ پر اسلام آباد سے شروع ہو گا۔ صدر پرابووو سبیانتو کا یہ دورہ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ہو رہا ہے اور یہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دوران تجارت، دفاع، اور ٹیکنالوجی میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے اہم معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔

جاتی عمرہ میں وزیراعظم شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات ہوئی جس میں موجودہ سیاسی صورتحال، ملکی معیشت اور حکومتی کارکردگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی اس موقع پر موجود تھیں۔

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس کل 8 دسمبر کو طلب کر لیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط (1 ارب ڈالر قرض اور 20 کروڑ ڈالر کلائمیٹ فنانسنگ) کی منظوری دی جائے گی۔ پاکستان نے قرض کی شرائط کے تحت کرپشن اینڈ گورننس ڈایئگناسٹک رپورٹ بھی جاری کر دی ہے۔