پیٹرول لیوی اور ٹیکس 2026: ایک لیٹر پیٹرول پر 124.73 جبکہ ڈیزل پر 112.65 روپے وصول

پیٹرول لیوی اور ٹیکس 2026 پاکستان
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پیٹرول اور ڈیزل پر کتنی لیوی اور ٹیکس وصول ہو رہے ہیں؟ نئی تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے نئی مالی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن کے مطابق پیٹرول لیوی اور ٹیکس 2026 کے تحت ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 124 روپے 73 پیسے جبکہ ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 112 روپے 65 پیسے مختلف لیوی، ٹیکس اور مارجنز کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 18 جولائی 2026 سے نافذ ہونے والی قیمتوں میں ایک لیٹر پیٹرول کی بنیادی لاگت 191 روپے 42 پیسے مقرر کی گئی ہے، تاہم مختلف حکومتی محصولات، لیویز اور مارجنز شامل کرنے کے بعد صارفین کو یہی پیٹرول 315 روپے 15 پیسے فی لیٹر میں فراہم کیا جا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر 80 روپے پٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے، جبکہ 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی قیمت کا حصہ ہے۔ اس کے علاوہ 18 روپے 16 پیسے کسٹمز ڈیوٹی شامل کی گئی ہے۔

مزید برآں، 6 روپے 95 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (IFEM) رکھا گیا ہے تاکہ ملک کے مختلف علاقوں میں پیٹرول کی یکساں فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

پیٹرول کی فروخت میں شامل آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے 7 روپے 87 پیسے فی لیٹر مارجن مقرر کیا گیا ہے جبکہ پیٹرول پمپ ڈیلرز کو 8 روپے 64 پیسے فی لیٹر مارجن دیا جا رہا ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی قیمت 241 روپے 70 پیسے فی لیٹر ہے، لیکن مختلف لیویز، ٹیکسز اور مارجنز شامل ہونے کے بعد صارفین کو یہ 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر مجموعی طور پر 112 روپے 65 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں، جن میں پٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی، کسٹمز ڈیوٹی، ٹرانسپورٹ سے متعلق اخراجات اور دیگر مقررہ مارجنز شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں بنیادی لاگت کے علاوہ حکومتی ٹیکسز اور لیویز کا نمایاں حصہ شامل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کے باوجود مقامی سطح پر صارفین کو فوری ریلیف ملنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی حکومت کے لیے ریونیو کا ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے، جبکہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی ماحولیاتی اقدامات کے لیے وسائل جمع کرنے کی غرض سے نافذ کی گئی ہے۔

دوسری جانب کاروباری حلقوں اور ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ افراد کا مؤقف ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر زیادہ ٹیکس اور لیویز اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں، کیونکہ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافے کا بوجھ بالآخر صارفین تک منتقل ہو جاتا ہے۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا باقاعدہ جائزہ مقررہ وقفوں کے بعد لیا جاتا ہے، جس میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

READ MORE FAQS
  1. ایک لیٹر پیٹرول پر کتنی لیوی اور ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں؟

ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 124 روپے 73 پیسے لیوی، ٹیکس اور مختلف مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں۔

  1. ہائی اسپیڈ ڈیزل پر کتنی وصولی کی جا رہی ہے؟

ہائی اسپیڈ ڈیزل پر مجموعی طور پر 112 روپے 65 پیسے لیوی، ٹیکس اور مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں۔

  1. پیٹرول کی بنیادی قیمت کتنی ہے؟

18 جولائی 2026 کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی بنیادی لاگت 191 روپے 42 پیسے ہے۔

  1. موجودہ سرکاری قیمت کتنی مقرر کی گئی ہے؟

ایک لیٹر پیٹرول کی سرکاری قیمت 315 روپے 15 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں