ایران نے معاہدے کے ایک گھنٹے بعد جہاز پر ڈرون حملہ کیا، پھر امریکا نے بمباری کی: ٹرمپ کا دعویٰ

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایران نے معاہدے کے ایک گھنٹے بعد جہاز پر ڈرون حملہ کیا، پھر امریکا نے بمباری کی: ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا ہفتے کے روز ایک اہم معاہدے پر متفق ہو گئے تھے، تاہم مذاکرات ختم ہونے کے صرف ایک گھنٹے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ڈرون حملہ کر دیا، جس کے بعد امریکا نے ایران کو سخت جواب دیتے ہوئے بمباری کی۔

امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران مذاکرات کے دوران تمام اہم نکات پر آمادہ ہو گیا تھا اور جوہری پروگرام سے متعلق بھی مثبت پیش رفت ہوئی تھی۔

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کا ٹیلیفونک رابطہ
پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ نے ٹیلیفونک رابطے میں مذاکرات اور امن پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، "یہ ہمارے لیے ایک بہترین معاہدہ تھا۔ ایران نے جوہری پروگرام سمیت تمام معاملات سے دستبردار ہونے پر آمادگی ظاہر کی تھی، لیکن مذاکراتی کمرے سے نکلنے کے صرف ایک گھنٹے بعد انہوں نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ڈرون حملہ کر دیا۔”

ٹرمپ کا دعویٰ کے مطابق اس حملے کے بعد امریکا نے فوری اور سخت ردعمل دیتے ہوئے اسی رات ایران پر فضائی کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم نے ایران کو بھرپور جواب دیا۔ وہ بہت بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں۔”

امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے اور عالمی تجارت معمول کے مطابق جاری ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ریپبلکن سینیٹر اور اپنے قریبی ساتھی لنزے گراہم کی وفات پر بھی اظہار افسوس کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہفتے کی رات انتقال سے چند گھنٹے قبل ان کی سینیٹر گراہم سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی۔

ٹرمپ نے کہا، "تھکا ہوا ہونے کے علاوہ وہ بالکل ٹھیک تھے۔ میرے خیال میں ان کی موت بہت اچانک ہوئی، اور شاید دنیا سے رخصت ہونے کا یہ کوئی بہت برا طریقہ نہیں تھا۔”

واضح رہے کہ ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کا دعویٰ پر تاحال ایرانی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان بیانات نے ایک مرتبہ پھر خطے کی کشیدہ صورتحال اور ایران امریکا تعلقات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا دعویٰ کیا؟
جواب: ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ معاہدے کے ایک گھنٹے بعد آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ڈرون حملہ کیا۔

سوال 2: امریکا نے حملے کے بعد کیا کارروائی کی؟
جواب: ٹرمپ کے مطابق امریکا نے جواباً اسی رات ایران پر بمباری کی۔

سوال 3: آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
جواب: آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی تیل اور تجارتی جہازوں کی بڑی تعداد گزرتی ہے۔

سوال 4: کیا ایران نے ٹرمپ کے دعوے پر ردعمل دیا؟
جواب: خبر کی اشاعت تک ایران کی جانب سے ٹرمپ کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔