ایران وینزویلا نہیں کہ ہم ایک دن میں جائیں اور فتح سمیٹ کر واپس آئیں، یہاں صورتحال مختلف ہے : ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری پروگرام اور مذاکرات پر گفتگو کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

 ایران وینزویلا نہیں کہ ہم ایک دن میں جائیں اور فتح سمیٹ کر واپس آئیں، یہاں صورتحال مختلف ہے، ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکے گا، معاہدہ یا فوجی کارروائی دونوں آپشن موجود ہیں: ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں امریکا ہر صورت اپنے مقاصد حاصل کرے گا اور ایران کو کسی بھی حالت میں ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی صورتحال وینزویلا سے مختلف ہے اور اسے ایک سادہ فوجی مہم سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہے تو ایران سے جوہری مواد نکال سکتا ہے، تاہم فی الحال اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی تفصیلات جلد سامنے آ جائیں گی، تاہم ایک بات واضح ہے کہ تہران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

مذاکرات یا فوجی کارروائی، دونوں راستے کھلے ہیں

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مختلف آپشنز رکھتا ہے اور کامیابی ہر صورت میں حاصل ہوگی۔

انہوں نے کہا، “ہم یا تو مذاکرات کے ذریعے کامیاب ہوں گے یا پھر فوجی کارروائی کے ذریعے، لیکن نتیجہ امریکا کے حق میں ہوگا۔”

صدر ٹرمپ کے مطابق وہ معاہدے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا سفارتی حل ممکن ہے یا نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی ایران سے متعلق امریکا کو انٹیلیجنس معلومات دینے کے دعوؤں پر وضاحت
دفتر خارجہ نے ایران سے متعلق امریکا کو انٹیلیجنس معلومات فراہم کرنے کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔

ایرانی قیادت اور عسکری ڈھانچے پر دعویٰ

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کے مطابق ایران کی بحریہ، فضائیہ اور عسکری قیادت کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ متعدد اعلیٰ فوجی عہدیدار بھی اب موجود نہیں ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا مسلسل ایرانی جوہری تنصیبات اور سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہے اور جو بھی ان حساس مقامات کے قریب جانے کی کوشش کرے گا، اس سے نمٹا جائے گا۔

ایران کے اقدامات جنگ کا سبب بن سکتے ہیں

صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران امریکی فوجیوں کو نشانہ بناتا ہے یا ان کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو یہ صورتحال دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے اہم نکات جلد عوام کے سامنے لائے جائیں گے تاکہ عالمی برادری کو بھی مذاکراتی عمل کی پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔

لبنان میں امن کی امید

لبنان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ وہاں جلد امن قائم ہو جائے گا، تاہم انہوں نے کہا کہ خطے کی مجموعی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کا امکان

ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک نئی تجارتی ڈیل جلد طے پا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھارت نے امریکا پر بھاری محصولات عائد کیے اور تجارتی فوائد حاصل کیے، تاہم اس کی ذمہ داری امریکا کی سابق پالیسیوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق نئی امریکی انتظامیہ تجارتی تعلقات کو زیادہ متوازن اور منصفانہ بنانے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ امریکی معیشت اور صنعت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

امریکی صدر کے تازہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز کے معاملات پر سفارتی رابطے جاری ہیں اور عالمی برادری ان مذاکرات کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: ٹرمپ نے کہا کہ ایران کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

سوال: کیا امریکا ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے؟

جواب: ٹرمپ کے مطابق امریکا مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

سوال: آبنائے ہرمز کے بارے میں ٹرمپ کا کیا مؤقف ہے؟

جواب: انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔

سوال: کیا ٹرمپ ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کے خواہش مند ہیں؟

جواب: ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ایسی خواہش نہیں، تاہم اگر معاہدے کے لیے ملاقات ضروری ہوئی تو یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔

سوال: بھارت کے بارے میں ٹرمپ نے کیا کہا؟

جواب: ٹرمپ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ جلد ممکن ہے اور ماضی میں بھارت نے امریکا سے تجارتی فائدہ اٹھایا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]