ٹرمپ نے قطر کے تحفے میں ملنے والے نئے ایئر فورس ون طیارے کی رونمائی کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپنئے ایئر فورس ون طیارے کی رونمائی کے موقع پر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ٹرمپ نے قطر کے تحفے میں ملنے والے نئے ایئر فورس ون طیارے کی رونمائی کر دی، ٹرمپ نے اسے "اڑتا ہوا وائٹ ہاؤس” قرار دے دیا

میری لینڈ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کی جانب سے تحفے میں ملنے والے نئے ایئر فورس ون طیارے کی باضابطہ رونمائی کر دی ہے، جسے امریکی صدارتی بیڑے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ جدید بوئنگ 747 طیارہ نہ صرف حجم اور سہولیات کے اعتبار سے سابق صدارتی طیارے سے کہیں بڑا اور جدید ہے بلکہ اسے دنیا کے سب سے پرتعیش سرکاری طیاروں میں بھی شمار کیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز جوائنٹ بیس اینڈریوز میں منعقدہ تقریب کے دوران طیارے کا استقبال کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو بھی دیگر ترقی یافتہ ممالک کی طرح جدید ترین صدارتی طیارے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نئے ایئر فورس ون طیارے 4 جولائی کو امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر واشنگٹن میں خصوصی فضائی مظاہرے کے دوران آزمائشی پرواز کرے گا۔

جے ڈی وینس کا دورہ سوئٹزرلینڈ مؤخر
امریکہ ایران معاہدے کے بعد تکنیکی مذاکرات میں تاخیر

نئے طیارے کو سرخ، سفید اور گہرے نیلے رنگوں سے مزین کیا گیا ہے جو سابق ہلکے نیلے رنگ کے ڈیزائن سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارے کو صدارتی استعمال کے قابل بنانے کے لیے سیکیورٹی اور تکنیکی اپ گریڈیشن پر تقریباً 900 ملین ڈالر خرچ کیے گئے ہیں جبکہ بعض ماہرین کے مطابق مجموعی لاگت ایک ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک ایسا لگژری طیارہ ہے جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں دنیا بھر کے دورے اسی جدید طیارے میں کریں گے۔ انہوں نے اسے "اڑتا ہوا وائٹ ہاؤس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ایسی آسائشیں موجود ہیں جو پہلے کبھی کسی صدارتی طیارے میں نہیں دیکھی گئیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ بوئنگ 747 طیارہ تقریباً 400 ملین ڈالر مالیت کا ہے اور قطر کی حکومت نے اسے امریکا کو تحفے کے طور پر فراہم کیا تھا۔ تاہم اس تحفے پر امریکی سیاسی حلقوں میں تنقید بھی سامنے آئی، جہاں بعض ناقدین نے اسے سیکیورٹی اور اخلاقی اعتبار سے متنازع قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے ایئر فورس ون طیارے صدر کے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لیے استعمال ہوگا، تاہم صدر ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے کے بعد اسے ان کی صدارتی لائبریری فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا جائے گا۔

امریکی فضائیہ کے مطابق "VC-25B برج” نامی یہ طیارہ ابتدائی کمیشننگ پروازوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اسے خصوصی حفاظتی نظام، جدید مواصلاتی سہولیات اور صدارتی ضروریات کے مطابق تبدیل کیا گیا ہے۔ فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس طیارے کی شمولیت سے موجودہ صدارتی فضائی بیڑے پر دباؤ بھی کم ہوگا۔

واضح رہے کہ "ایئر فورس ون” کسی مخصوص طیارے کا نام نہیں بلکہ اس طیارے کو کہا جاتا ہے جس میں امریکی صدر سفر کر رہے ہوں۔ اس وقت امریکی صدارتی بیڑے میں دو دیگر بوئنگ 747 جمبو جیٹ طیارے بھی شامل ہیں، تاہم نیا طیارہ جدید ترین سہولیات کے باعث خصوصی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: نیا ایئر فورس ون طیارہ کس نے تحفے میں دیا؟

جواب: نیا ایئر فورس ون طیارہ قطر کی حکومت کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفے میں دیا گیا۔

سوال: نیا طیارہ کس ماڈل پر مشتمل ہے؟

جواب: یہ جدید بوئنگ 747 طیارہ ہے جسے خصوصی طور پر صدارتی استعمال کے لیے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔

سوال: طیارے کی مالیت کتنی ہے؟

جواب: طیارے کی بنیادی مالیت تقریباً 400 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے جبکہ سیکیورٹی اور تکنیکی اپ گریڈیشن پر ایک ارب ڈالر سے زائد لاگت آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سوال: نیا ایئر فورس ون کب استعمال ہوگا؟

جواب: صدر ٹرمپ کے مطابق طیارہ 4 جولائی کو امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے دوران آزمائشی پرواز کرے گا۔

سوال: ایئر فورس ون کیا ہوتا ہے؟

جواب: ایئر فورس ون دراصل اس طیارے کا سرکاری نام ہے جس میں امریکی صدر سفر کر رہے ہوں۔

متعلقہ خبریں