اسلام آباد میں موٹر سائیکلوں کی ڈیجیٹل ٹیگنگ شروع، ایم ٹیگ 250 روپے میں دستیاب

اسلام آباد میں موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

‫Islamabad میں موٹر سائیکلوں کی ڈیجیٹل ٹیگنگ کا آغاز، سیکیورٹی نظام مزید مؤثر‬

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے موٹر سائیکلوں کی باقاعدہ ڈیجیٹل ٹیگنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا، جرائم کی روک تھام کو مؤثر بنانا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فوری معلومات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق اس ڈیجیٹل نظام کے تحت موٹر سائیکلوں پر خصوصی ایم ٹیگ (M-Tag) نصب کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے ہر رجسٹرڈ موٹر سائیکل کا مکمل ڈیٹا ایک مرکزی نظام میں محفوظ ہوگا۔ اس نظام سے کسی بھی مشتبہ یا غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل کی فوری شناخت ممکن ہو سکے گی، جبکہ چوری شدہ گاڑیوں کی بازیابی اور جرائم میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکلوں کی ٹریکنگ بھی آسان ہو جائے گی۔

رجسٹریشن کے عمل کو سادہ اور تیز رفتار بنایا گیا ہے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی موٹر سائیکل کے اصل کاغذات اور اصل شناختی کارڈ ہمراہ لائیں۔ متعلقہ کیمپ پر تصدیق کے بعد چند ہی منٹوں میں ایم ٹیگ جاری کر کے موٹر سائیکل پر چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ اس ٹیگ کی قیمت صرف 250 روپے مقرر کی گئی ہے، جو کہ ایک معمولی فیس ہے اور اس کا مقصد انتظامی اخراجات کو پورا کرنا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے شہر کے مختلف اہم مقامات پر ایم ٹیگ لگانے کی سہولت فراہم کی ہے۔ ان مقامات میں جناح پارک ایف نائن، گلبرگ گرین، ملپور، فیض آباد، گندم گودام نزد تھانہ سبزی منڈی، دامنِ کوہ، ٹیولپ ہوٹل، روات ٹی کراس، نائنتھ ایونیو اور مارگلہ ایونیو شامل ہیں۔ شہری اپنی سہولت کے مطابق ان میں سے کسی بھی مقام پر جا کر اپنی موٹر سائیکل پر ایم ٹیگ لگوا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگز لگانے کا سلسلہ 20 فروری سے باقاعدہ طور پر شروع کیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں شہریوں کو آگاہی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ بعد ازاں اس نظام کو مزید مربوط کیا جائے گا اور ممکن ہے کہ بغیر ایم ٹیگ موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔

ڈیجیٹل ٹیگنگ کا یہ منصوبہ دراصل شہر میں اسمارٹ نگرانی کے بڑے نظام کا حصہ ہے۔ جدید کیمروں، خودکار نمبر پلیٹ شناختی نظام (ANPR) اور ڈیٹا بیس کے انضمام کے ذریعے سیکیورٹی ادارے کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر فوری ردعمل دے سکیں گے۔ اس کے علاوہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی بھی زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکے گی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف جرائم کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ شہریوں کو بھی ایک محفوظ ماحول میسر آئے گا۔ موٹر سائیکل چونکہ شہری ٹرانسپورٹ کا ایک عام اور تیز رفتار ذریعہ ہے، اس لیے اس کی ڈیجیٹل رجسٹریشن سے شہر میں نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ رکھنا ممکن ہوگا۔ اس سے دہشت گردی، اسٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم کی روک تھام میں نمایاں مدد ملنے کی توقع ہے۔

ماہرین کے مطابق جدید شہروں میں ڈیجیٹل نگرانی کے نظام ناگزیر ہو چکے ہیں۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ شہروں میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی ٹریکنگ کے لیے اسمارٹ ٹیگز اور ڈیجیٹل رجسٹریشن کا نظام رائج ہے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ اسلام آباد میں اس اقدام کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں مزید جدید سیکیورٹی منصوبوں کی راہ ہموار کرے گا۔

شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مقامات پر جا کر جلد از جلد ایم ٹیگ لگوائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ قانونی کارروائی سے بچ سکیں اور شہر کے سیکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ رجسٹریشن کا عمل شفاف، تیز اور آسان بنایا گیا ہے اور ہر مقام پر عملہ شہریوں کی رہنمائی کے لیے موجود ہوگا۔

مجموعی طور پر یہ اقدام دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ ڈیجیٹل ٹیگنگ کے ذریعے موٹر سائیکلوں کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہوگا، فوری شناخت اور ٹریکنگ ممکن ہوگی اور جرائم کی روک تھام میں نمایاں بہتری آئے گی۔ شہری تعاون کریں تو یہ منصوبہ نہ صرف سیکیورٹی کو مضبوط بنائے گا بلکہ ایک جدید، محفوظ اور منظم شہر کی تشکیل میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]