آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا، معاشی کارکردگی اور زرمبادلہ ذخائر پر مذاکرات کا آغاز

آئی ایم ایف کا وفد پاکستان میں اسٹیٹ بینک حکام سے ملاقات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا، معاشی کارکردگی اور زرمبادلہ ذخائر پر مذاکرات کا آغاز، جس میں آئی ایم ایف مشن اور اسٹیٹ بینک کے ماہرین کے درمیان زرمبادلہ ذخائر میں بہتری سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا

کراچی: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا وفد اہم دورے پر پاکستان پہنچ گیا ہے، جہاں انہوں نے اسٹیٹ بینک حکام سے ملاقات کی اور معاشی کارکردگی، مالیاتی پالیسی، اور زرمبادلہ ذخائر پر تبادلہ خیال کیا۔

ابتدائی بریفنگ اور ڈیٹا شیئرنگ

ملاقات کے دوران آئی ایم ایف حکام کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے ملک کی معاشی کارکردگی اور مالیاتی ڈیٹا پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

پہلے مرحلے میں ٹیکنیکل ڈیٹا شیئرنگ ہوگی

جولائی تا جنوری معاشی کارکردگی کے اعداد و شمار پیش کیے جائیں گے

ذرائع کے مطابق، ڈیٹا شیئرنگ سیشن کے دوران آئی ایم ایف مشن اور اسٹیٹ بینک کے ماہرین کے درمیان زرمبادلہ ذخائر میں بہتری سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔

مالیاتی پالیسی اور بینکنگ ریگولیشنز

ان سیشنز میں تکنیکی سطح پر درج ذیل معاملات پر مذاکرات متوقع ہیں:

وزیراعظمشہباز شریف کی امیرِ قطر اور ہم منصب سے اہم ملاقات
شہباز شریف کی دوحہ میں اعلیٰ قطری قیادت سے اہم ملاقاتیں

مانیٹری پالیسی

افراطِ زر (مہنگائی)

بینکنگ ریگولیشنز

اینٹی ٹیرر فنانسنگ اقدامات

اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات

اس دوران اسٹیٹ بینک کے ماہرین آئی ایم ایف کو پالیسی ریٹ اور دیگر مالیاتی اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے۔

آئی ایم ایف کے اہداف اور پروگرام

آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ہدف مقرر کیا ہے کہ 30 جون تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں۔

یہ دورہ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (Extended Fund Facility) کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق وفد 1.1 ارب ڈالر کی لچک اور پائیداری کی سہولت (Resilience and Sustainability Facility) کے تحت دوسرے جائزے کے لیے بھی پاکستان میں موجود ہے۔

نتیجہ

آئی ایم ایف کا وفد کا یہ دورہ پاکستان کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس مذاکرات کے نتائج ملک میں مالی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر، اور مستقبل کی اقتصادی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]