بجلی مہنگی، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت قیمتوں میں اضافہ
پاکستان بھر میں مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان بجلی کی قیمتوں میں ایک اور اضافہ کر دیا گیا ہے، جس نے شہریوں اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ تازہ فیصلے کے مطابق کراچی سمیت ملک بھر کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 35 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ توانائی کے شعبے کے ریگولیٹری ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے سماعت مکمل ہونے کے بعد جاری کیا ہے، جس میں اکتوبر سے دسمبر 2025 کی سہ ماہی کے مالیاتی حسابات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
جاری کردہ فیصلے کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں یہ اضافہ عارضی نوعیت کا ہوگا، تاہم اس کا اطلاق مارچ سے مئی 2026 تک کے تین ماہ کے لیے کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بجلی صارفین پر مجموعی طور پر تقریباً 8 ارب 67 کروڑ 40 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ فی یونٹ اضافہ بظاہر کم دکھائی دیتا ہے، لیکن جب اسے ملک بھر کے کروڑوں صارفین پر لاگو کیا جائے تو اس کا مجموعی اثر خاصا بڑا بن جاتا ہے۔
نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ بجلی کی پیداواری لاگت، ایندھن کی قیمتوں، بجلی کی طلب اور سپلائی کے فرق، اور دیگر مالیاتی عوامل کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ ہے کہ بجلی کے نظام کو مالی طور پر مستحکم رکھا جا سکے اور توانائی کے شعبے میں جاری خسارے کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق بجلی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مالی مسائل اور گردشی قرضوں کی صورتحال بھی ان فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا یہ فیصلہ براہ راست صارفین پر اثر ڈالے گا، جس کے باعث گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ صنعتی اور تجارتی شعبے بھی متاثر ہوں گے۔ کاروباری برادری پہلے ہی توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے، کیونکہ بجلی مہنگی ہونے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے جس کا اثر بالآخر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو حتمی منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو بھی بھجوا دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کا باقاعدہ اطلاق کیا جائے گا۔ عام طور پر نیپرا کے فیصلوں کو حکومت کی منظوری کے بعد بجلی کے بلوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس لیے صارفین کو آئندہ چند ماہ کے دوران بجلی کے بلوں میں اس اضافے کا اثر واضح طور پر نظر آئے گا۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب رواں مالی سال کے دوران بجلی کی قیمتوں میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت اضافہ کیا گیا ہو۔ اس سے قبل مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بھی بجلی مہنگی کی گئی تھی۔ اس وقت جولائی سے ستمبر 2025 کی سہ ماہی کے لیے بجلی کی قیمت میں 33 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا تھا۔ اس اضافے کا اطلاق دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک کیا گیا تھا، جس کے باعث صارفین کو پہلے ہی زیادہ بلوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ درآمدی ایندھن پر انحصار ہے۔ جب عالمی مارکیٹ میں تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر بجلی کی پیداواری لاگت پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور پاور سیکٹر میں مالیاتی مسائل بھی بجلی کی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً سہ ماہی اور ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے قیمتوں میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے گھریلو اخراجات میں اضافہ ہو چکا ہے اور اب بجلی کی قیمت بڑھنے سے مالی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ خصوصاً متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے بجلی کے بل ادا کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور توانائی حکام کا مؤقف ہے کہ بجلی کے نظام کو مستحکم رکھنے اور مستقبل میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایسے فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر توانائی کے شعبے میں اصلاحات تیز نہ کی گئیں تو مستقبل میں بھی بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کو قابل تجدید توانائی کے منصوبوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، جیسے کہ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اور پن بجلی کے منصوبے۔ اس سے نہ صرف بجلی کی پیداواری لاگت کم ہو سکتی ہے بلکہ ملک کو درآمدی ایندھن پر انحصار سے بھی نجات مل سکتی ہے۔
کراچی سمیت بڑے شہروں میں بجلی کے صارفین پہلے ہی لوڈشیڈنگ اور بلوں میں اضافے کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ شہریوں کے لیے ایک نئی آزمائش بن سکتا ہے۔ صنعتی شعبہ بھی اس فیصلے سے متاثر ہوگا کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت صنعتوں کی پیداواری صلاحیت اور برآمدات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ بجلی مہنگی ہونے سے عوام پر فوری بوجھ بڑھتا ہے، لیکن اگر اس کے نتیجے میں پاور سیکٹر کے مالی مسائل حل ہو جاتے ہیں اور بجلی کی فراہمی میں بہتری آتی ہے تو طویل مدت میں اس کے مثبت اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت اور مؤثر پالیسیوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں حالیہ اضافہ ایک اہم معاشی پیش رفت ہے جس کے اثرات ملک کے مختلف شعبوں پر پڑیں گے۔ عوام کو آئندہ مہینوں میں بجلی کے بلوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ ایک امتحان ہوگا کہ وہ توانائی کے شعبے کو کس طرح مستحکم بناتے ہیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔

