مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ، عالمی مارکیٹ میں "تیل کی قیمت” میں ہوش ربا اضافے کا خدشہ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع نے عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ قطری وزیرِ توانائی نے ایک حالیہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر حالات مزید بگڑے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمت تمام ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔
عالمی معیشت پر جنگ کے اثرات
دوحہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قطری وزیرِ توانائی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی جنگ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی سپلائی چین پہلے ہی دباؤ میں ہے اور اس صورتحال میں تیل کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
150 ڈالر فی بیرل کا خدشہ
قطری وزیر نے ایک سنگین پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی اور جنگ کے بادل گہرے ہوئے تو محض چند ہفتوں کے اندر تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ ایک ایسی سطح ہے جو دنیا کے کئی ممالک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا کر دے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خام تیل کی قیمت کا براہِ راست انحصار خطے کے سیاسی استحکام پر ہے۔
توانائی کی برآمدات میں رکاوٹ
قطر کے وزیرِ توانائی کے مطابق، خلیجی ممالک توانائی کی برآمدات کے مرکز ہیں، اور یہ جنگ ان سپلائی لائنز کو مفلوج کر دے گی۔ اگر آبنائے ہرمز یا دیگر اہم راستے بند ہوتے ہیں تو تیل کی قیمت پر قابو پانا ناممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات رکنے کا مطلب ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کو ایک بڑا جھٹکا لگے گا۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل تنازع
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ ٹکراؤ نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جب بھی تہران یا واشنگٹن کی جانب سے سخت بیانات سامنے آتے ہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں فوری طور پر اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ تیل کی قیمت اب مکمل طور پر مشرقِ وسطیٰ کے دفاعی حالات کے گرد گھوم رہی ہے۔
مستقبل کی صورتحال
اگرچہ اوپیک ممالک مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن جنگی حالات میں معاشی اصول کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ قطری وزیرِ توانائی نے زور دیا کہ عالمی برادری کو مداخلت کرنی چاہیے، ورنہ تیل کی قیمت میں ہونے والا اضافہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو دیوالیہ پن کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف وزیراعظم کا سخت ایکشن: لائسنس منسوخی کا حکم
آخر میں انہوں نے متنبہ کیا کہ دنیا کو ایک بڑے بحران کے لیے تیار رہنا چاہیے کیونکہ تیل کی قیمت اب کسی بھی وقت قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔