خواتین کا عالمی دن: پاکستانی خواتین کی صلاحیتیں اور معیشت میں کردار

خواتین کا عالمی دن پاکستان میں خواتین کا کردار
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

خواتین کا عالمی دن: پاکستانی خواتین کا ہنر اور معیشت میں بڑھتا کردار

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جو خواتین کی جدوجہد، کامیابیوں اور معاشرے میں ان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ یہ دن نہ صرف خواتین کے حقوق اور مساوات کی یاد دہانی کراتا ہے بلکہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ پاکستان میں بھی یہ دن مختلف تقریبات، سیمینارز، آگاہی مہمات اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کے ذریعے منایا جاتا ہے تاکہ خواتین کی صلاحیتوں اور ان کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔

پاکستانی خواتین صلاحیتوں اور ہنر کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ ملک کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں خواتین تعلیم، کاروبار، طب، سیاست، صحافت، فنونِ لطیفہ اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ بہت سی خواتین ایسی بھی ہیں جو نہ صرف اپنے خاندان کی کفالت کر رہی ہیں بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی محنت اور عزم اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر خواتین کو مناسب مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ معاشرے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

خاص طور پر گھریلو سطح پر کام کرنے والی ہنر مند خواتین پاکستان کی معیشت میں خاموش مگر اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں ہزاروں خواتین اپنے گھروں میں رہ کر چھوٹے پیمانے پر کاروبار چلا رہی ہیں۔ کوئی کپڑوں پر سلائی اور کڑھائی کے خوبصورت نمونے تیار کر رہی ہے تو کوئی رنگوں کے امتزاج سے آرٹ کے دلکش شاہکار تخلیق کر رہی ہے۔ اسی طرح بہت سی خواتین ہاتھ سے بنی موم بتیاں، زیورات، گھریلو سجاوٹ کی اشیاء، بیگز اور دیگر دستکاری کی مصنوعات تیار کر کے نہ صرف اپنا روزگار حاصل کر رہی ہیں بلکہ اپنے خاندان کی مالی مدد بھی کر رہی ہیں۔

یہ تمام ہنر اور تخلیقی صلاحیتیں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ پاکستانی خواتین میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ سوشل میڈیا اور آن لائن کاروبار کے بڑھتے ہوئے رجحان نے بھی خواتین کیلئے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اب بہت سی خواتین فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی مصنوعات فروخت کر رہی ہیں اور گھر بیٹھے ایک کامیاب کاروبار چلا رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی معاشی خودمختاری میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔

 

اگر مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود لیبر فورس میں خواتین کی شرکت کی شرح ابھی بھی نسبتاً کم ہے جو تقریباً 21 سے 23 فیصد کے درمیان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو صلاحیت اور قابلیت رکھنے کے باوجود عملی میدان میں شامل نہیں ہو پا رہی۔ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں معاشرتی رکاوٹیں، محدود مواقع، تعلیم اور تربیت کی کمی یا محفوظ اور سازگار کام کے ماحول کا فقدان شامل ہیں۔

خواتین کا کہنا ہے کہ اگر انہیں مناسب مواقع، بہتر تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور محفوظ کام کا ماحول فراہم کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں۔ بہت سی خواتین اس بات پر زور دیتی ہیں کہ حکومتی اور نجی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے ذریعے خواتین کو کاروبار شروع کرنے، ہنر سیکھنے اور معاشی طور پر خودمختار بننے میں مدد مل سکے۔

ماہرینِ معاشیات بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر پاکستان میں خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت میں اضافہ ہو جائے تو اس کے ملکی معیشت پر نہایت مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مختلف مطالعات کے مطابق اگر زیادہ تعداد میں خواتین روزگار یا کاروبار کے میدان میں شامل ہو جائیں تو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا نہ صرف سماجی ترقی بلکہ معاشی استحکام کیلئے بھی انتہائی ضروری ہے۔

خواتین کا عالمی دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ خواتین کو صرف خراجِ تحسین پیش کرنا ہی کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار اور کاروباری مواقع تک خواتین کی رسائی کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں ایسے رویوں کو فروغ دینا بھی ضروری ہے جو خواتین کی عزت، خودمختاری اور ترقی کو یقینی بنائیں۔

پاکستانی خواتین نے ماضی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور آج بھی وہ ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ چاہے وہ ایک گھریلو خاتون ہو جو اپنے ہنر سے چھوٹا کاروبار چلا رہی ہے یا ایک پیشہ ور خاتون جو کسی بڑے ادارے میں خدمات انجام دے رہی ہے، دونوں ہی اپنے اپنے انداز میں ملک کی ترقی میں حصہ ڈال رہی ہیں۔

خواتین کا عالمی دن دراصل اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ خواتین کو بااختیار بنایا جائے، انہیں برابر کے مواقع فراہم کیے جائیں اور ان کی صلاحیتوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے۔ اگر معاشرہ خواتین کی تعلیم، ہنر اور معاشی شمولیت کو ترجیح دے تو نہ صرف خواتین بلکہ پورا ملک ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]