پنجاب میں دفعہ 144 میں توسیع، اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی برقرار

پنجاب میں دفعہ 144 نافذ سیکیورٹی اقدامات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب میں دفعہ 144 میں 7 روز کی توسیع، عوامی اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی

پنجاب حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید 7 روز کی توسیع کر دی ہے۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق صوبے بھر میں اجتماعات، جلوسوں اور مظاہروں پر عائد پابندی کو برقرار رکھا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام دہشت گردی کے ممکنہ خطرات اور امن عامہ کو لاحق خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر میں چار یا اس سے زائد افراد کے عوامی اجتماع پر پابندی عائد رہے گی۔ کسی بھی عوامی مقام پر بغیر اجازت اجتماع، جلوس یا مظاہرہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق بعض حساس اجتماعات دہشت گردی اور فرقہ واریت کا ہدف بن سکتے ہیں، جس کے باعث حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کیا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ کے مطابق یہ پابندیاں عارضی نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد صرف امن و امان کو برقرار رکھنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں صوبے کے تمام اضلاع کی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ دفعہ 144 پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

تاہم نوٹیفکیشن میں بعض اجتماعات کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں شادی بیاہ کی تقریبات، جنازے اور تدفین سے متعلق اجتماعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر کے اجلاس اور عدالتوں میں ہونے والی کارروائیاں بھی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار دورانِ ڈیوٹی اس پابندی کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے اسلحے کی نمائش اور استعمال پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ممکنہ ناخوشگوار واقعات کی روک تھام اور شہریوں میں احساسِ تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ حکام کے مطابق اسلحے کی نمائش یا استعمال کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع 14 مارچ تک کی گئی ہے۔ اس دوران صوبے بھر میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت رکھے جائیں گے اور ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے اور عوامی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور دفعہ 144 کی پابندیوں کا احترام کریں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عوامی مفاد میں اٹھائے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد صوبے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے کیونکہ بڑے اجتماعات بعض اوقات سیکیورٹی کے حوالے سے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومت اور سیکیورٹی ادارے پیشگی اقدامات کے ذریعے ممکنہ خطرات کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مجموعی طور پر پنجاب حکومت کی جانب سے دفعہ 144 میں توسیع کو امن و امان برقرار رکھنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اس پابندی کے بارے میں مزید فیصلے کیے جائیں گے۔ فی الحال صوبے بھر میں انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صورتحال پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]