پاکستان میں سونا مزید مہنگا، عالمی مارکیٹ کے اثرات، چاندی کی قیمت بھی بڑھ گئی
ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ آج بھی جاری رہا، جس کے بعد ایک بار پھر سونے کے نرخ پانچ لاکھ روپے کی حد عبور کر گئے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 3 ہزار 500 روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 5 لاکھ 3 ہزار 462 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عام صارفین کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 1 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 31 ہزار 637 روپے ہو گئی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے کو عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مقامی سطح پر روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ سے جوڑا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں فی اونس سونا 35 ڈالر مہنگا ہو کر 4 ہزار 811 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی کی قیمت 144 روپے اضافے کے بعد 8 ہزار 404 روپے ہو گئی ہے، جبکہ 10 گرام چاندی 124 روپے مہنگی ہو کر 7 ہزار 205 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ چاندی کی قیمت میں اضافہ بھی عالمی رجحانات اور مقامی طلب میں اضافے کا عکاس ہے۔
صرافہ بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام صارفین، خصوصاً شادیوں کے سیزن میں زیورات خریدنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ دوسری جانب سرمایہ کار اس صورتحال کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں، کیونکہ سونا طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے اب بھی ایک محفوظ ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ تاہم اگر معاشی حالات میں بہتری آتی ہے اور ڈالر کی قدر مستحکم ہوتی ہے تو قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عالمی اور مقامی معاشی حالات کی عکاسی کرتا ہے، جس کے اثرات براہ راست عام شہریوں اور سرمایہ کاروں دونوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رجحان عالمی حالات اور معاشی پالیسیوں پر منحصر ہوگا۔


One Response