ماہرہ خان کا کوئٹہ تیزاب گردی واقعے پر شدید ردعمل، غصے سے کانپنے لگیں

ماہرہ خان کوئٹہ تیزاب گردی واقعے پر ردعمل
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

ایک خاتون زندگیاں بچانے گئی اور اس پر تیزاب پھینک دیا گیا؛ ماہرہ خان کا دردناک ردعمل

ماہرہ خان کوئٹہ تیزاب گردی واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے جذباتی ہو گئیں اور انہوں نے خاتون ڈاکٹر پر ہونے والے حملے کو ایک انتہائی افسوسناک اور غیر انسانی فعل قرار دیا ہے۔

پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے کوئٹہ کے سنڈیمن اسپتال میں پیش آنے والے واقعے پر اظہارِ افسوس کیا، جہاں ٹرینی سرجن ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر مبینہ طور پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔

ماہرہ خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایک خاتون دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے اسپتال گئی تھی، لیکن اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں اور اس خبر نے انہیں شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

اداکارہ نے ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کو وحشیانہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے فرد کی زندگی یا شناخت کو تباہ کرے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ معاشرتی اقدار اور انسانی وقار پر بھی حملہ ہے۔

ماہرہ خان نے اپنے بیان میں خواتین کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ ڈاکٹر مکمل تحفظ اور انصاف کی مستحق ہیں۔ انہوں نے اس واقعے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس خبر پر کانپ رہی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کو بھی اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق معاشرے میں تشدد، نفرت اور خواتین کے خلاف جرائم کے خلاف اجتماعی موقف اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ کوئٹہ کے سنڈیمن اسپتال میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی تھی۔ بعد ازاں انہیں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

واقعے میں اسپتال کے ایک وارڈ بوائے بھی زخمی ہوئے تھے جو خاتون ڈاکٹر کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکومت بلوچستان نے متاثرہ ڈاکٹر کے علاج کی مکمل ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، انسانی حقوق کے کارکنان اور شوبز شخصیات متاثرہ ڈاکٹر سے اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]