سی ڈی اے ہسپتال اسلام آباد کے ایمرجنسی وارڈ میں بلیاں، شہریوں نے انتظامیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا
سی ڈی اے ہسپتال ایمرجنسی وارڈ میں بلیاں نظر آنے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحت کے شعبے سے متعلق ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے سامنے آنے والی تصاویر میں بلیوں کو آزادانہ طور پر گھومتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد شہریوں، مریضوں اور صحت عامہ کے ماہرین کی جانب سے مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
موصولہ تصاویر کے مطابق ایمرجنسی وارڈ کے اندر کم از کم دو بلیاں موجود تھیں جو ہسپتال کے اس حساس حصے میں آزادانہ نقل و حرکت کر رہی تھیں۔ تصاویر میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ بلیوں کے اردگرد میڈیکل اور سرجیکل شعبوں کے داخلی راستے موجود ہیں، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں مریضوں اور طبی عملے کی آمد و رفت ہوتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال خصوصاً ایمرجنسی وارڈ ایک ایسا مقام ہوتا ہے جہاں صفائی ستھرائی، جراثیم سے پاک ماحول اور انفیکشن کنٹرول کے سخت اصولوں پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں جانوروں کی موجودگی مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔
مریضوں کے لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور ایسے اقدامات کرے جن سے ایمرجنسی وارڈ سمیت تمام حساس شعبوں میں صفائی اور حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے بین الاقوامی اصولوں کے تحت مریضوں کے علاج کے مقامات کو ہر قسم کی آلودگی اور غیر ضروری عوامل سے محفوظ رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ بلیوں کی موجودگی سے کسی مخصوص نقصان کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، تاہم صحت کے مراکز میں جانوروں کی موجودگی عمومی طور پر پسندیدہ نہیں سمجھی جاتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے نظام کا بنیادی مقصد مریضوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے۔ خصوصاً ایمرجنسی وارڈ، آپریشن تھیٹرز، آئی سی یو اور دیگر حساس شعبوں میں صفائی کے معیار کو برقرار رکھنا انتظامیہ کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں صفائی اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے وقتاً فوقتاً شکایات سامنے آتی رہتی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے باقاعدہ نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ مریضوں کو بہترین طبی سہولیات اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال کے مختلف حصوں میں جانوروں کے داخلے کو روکنے کے لیے مستقل اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جانور کسی طرح عمارت کے اندر داخل ہو رہے ہیں تو اس کی وجوہات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق جدید ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کمیٹیاں باقاعدگی سے صفائی، جراثیم کشی اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیتی ہیں۔ اسی طرح داخلی راستوں، ویسٹ مینجمنٹ، وینٹی لیشن اور دیگر انتظامی امور کو بھی مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ سی ڈی اے ہسپتال جیسے اہم طبی مرکز میں صفائی اور مریضوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔
اس معاملے پر ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر کی اشاعت تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اگر انتظامیہ کی جانب سے کوئی وضاحت یا بیان جاری کیا جاتا ہے تو اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
READ MORE FAQS
سوال: سی ڈی اے ہسپتال میں بلیوں کی موجودگی کہاں دیکھی گئی؟
جواب: تصاویر کے مطابق بلیاں ایمرجنسی وارڈ کے اندر موجود تھیں۔
سوال: شہریوں نے کیا مطالبہ کیا ہے؟
جواب: شہریوں نے صفائی، انفیکشن کنٹرول اور حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوال: طبی ماہرین کیا کہتے ہیں؟
جواب: ماہرین کے مطابق ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے سخت اصولوں پر عمل ضروری ہوتا ہے۔








