بجٹ 2026-27 کل پیش ہوگا: تنخواہوں میں اضافے، ٹیکس ریلیف اور اہم معاشی فیصلے سامنے آگئے

پاکستان بجٹ 2026-27 تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس ریلیف
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

وفاقی بجٹ 2026-27: تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف، ٹیکس اصلاحات اور ترقیاتی اہداف کا اعلان متوقع

پاکستان کا آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ کل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جس میں حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے، عوامی ریلیف دینے اور ترقیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے بڑے فیصلوں کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کریں گے، جبکہ اس سے قبل کابینہ خصوصی اجلاس میں بجٹ مسودے کی منظوری دے گی۔

ذرائع کے مطابق اس بجٹ کا مجموعی حجم 17.5 ٹریلین روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے، جبکہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور قرضوں کے باوجود ترقیاتی منصوبوں اور عوامی ریلیف میں توازن قائم رکھا جائے۔

سرکاری ملازمین کیلئے ریلیف

بجٹ میں سب سے اہم پہلو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ ہے۔ حکومت تقریباً 50 ارب روپے تک کا ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور تنخواہ دار طبقے کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

ٹیکس سلیب میں تبدیلیاں

ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا سکتی ہے۔ ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن والوں کو ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ بعض سلیبز میں ٹیکس شرح کم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں، جبکہ زیادہ آمدن والے افراد کیلئے شرح 35 فیصد تک برقرار رہ سکتی ہے۔

مہنگائی اور ٹیکس اصلاحات

حکومت نئے ٹیکس اقدامات سے تقریباً 220 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ انفورسمنٹ کے ذریعے 1000 ارب روپے اضافی آمدن کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز ہے، جس کے تحت کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

ترقیاتی بجٹ اور منصوبے

قومی ترقیاتی منصوبے (PSDP) کے لیے 1000 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ صوبائی ترقیاتی منصوبوں سمیت مجموعی ترقیاتی پیکیج 3000 ارب روپے سے زائد ہو سکتا ہے۔ تاہم کچھ منصوبوں میں کٹوتی بھی کی گئی ہے اور نئی اسکیموں کے آغاز پر پابندی لگانے کی تجویز ہے۔

توانائی اور گاڑیوں پر ٹیکس پالیسی

بجٹ میں ماحول دوست پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف جبکہ روایتی ایندھن والی گاڑیوں پر کاربن لیوی لگانے کی تجویز ہے۔ سولر پینلز پر ٹیکس سے متعلق مجوزہ اضافہ واپس لینے کا فیصلہ بھی سامنے آیا ہے۔

دفاعی اور قرضہ جاتی اخراجات

ذرائع کے مطابق دفاعی بجٹ تقریباً 3000 ارب روپے تک رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ قرضوں پر سود کیلئے 7824 ارب روپے مختص کیے جا سکتے ہیں، جو کہ ملک کے مالی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی ترقی کے اہداف

حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 20 لاکھ نئی نوکریاں پیدا کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں ترقی کی شرح بالترتیب 3.8 فیصد، 4 فیصد اور 4.2 فیصد رکھنے کا منصوبہ ہے۔

READ MORE FAQS

وفاقی بجٹ 2026-27 کب پیش کیا جائے گا؟

کل وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کریں گے۔

کیا تنخواہوں میں اضافہ ہوگا؟

جی ہاں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز موجود ہے۔

بجٹ کا مجموعی حجم کتنا ہوگا؟

تقریباً 17.5 ٹریلین روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے۔

کیا ٹیکس میں ریلیف ملے گا؟

تنخواہ دار طبقے کیلئے تقریباً 50 ارب روپے کا ریلیف متوقع ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]