نیوزی لینڈ میں آدھا سرخ اور آدھا پیلا نایاب سیب سامنے آگیا، لوگ حیران
کیمیرا ایپل نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں سامنے آنے والا ایک ایسا نایاب پھل ہے جس نے سائنس دانوں، باغبانی کے ماہرین اور عام لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ یہ منفرد سیب اپنی غیر معمولی رنگت کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ اس کا ایک حصہ مکمل طور پر سرخ جبکہ دوسرا حصہ چمکدار پیلے رنگ کا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے پھل انتہائی نایاب ہوتے ہیں اور لاکھوں سیبوں میں سے صرف ایک میں ایسی جینیاتی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سیب کو دیکھنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد دکان کا رخ کر رہی ہے۔
نایاب سیب کی دریافت کیسے ہوئی؟
رپورٹس کے مطابق یہ منفرد سیب مئی کے وسط میں “ریڈ بریبرن” سیبوں کی ایک کھیپ کے دوران دریافت ہوا۔ جب فروٹ شاپ کے عملے نے سیب کو دیکھا تو اس کی منفرد رنگت نے سب کو حیران کر دیا۔
سیب کا ایک حصہ مکمل سرخ جبکہ دوسرا حصہ روشن زرد رنگ کا تھا، جس سے یہ عام سیبوں سے بالکل مختلف دکھائی دیتا تھا۔
کرائسٹ چرچ میں واقع فروٹ شاپ کی مالکہ نے فوری طور پر اس نایاب سیب کو محفوظ کر لیا اور بعد ازاں یہ مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا۔
کیمیرا ایپل کیا ہوتا ہے؟
کیمیرا ایپل دراصل ایک جینیاتی مظہر ہے جسے سائنس میں “چیمیرا” کہا جاتا ہے۔
چیمیرا ایسی حالت کو کہتے ہیں جب ایک ہی جاندار کے جسم میں دو مختلف جینیاتی ساخت رکھنے والے خلیات موجود ہوں۔
اس منفرد سیب میں بھی دو مختلف جینیاتی خصوصیات رکھنے والے خلیات نشوونما پاتے ہیں، جس کے نتیجے میں پھل دو الگ رنگوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔
یہ اتنا نایاب کیوں ہے؟
سائنس دانوں کے مطابق کیمیرا ایپل کی تشکیل ایک غیر معمولی جینیاتی تبدیلی کے باعث ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ:
- یہ قدرتی طور پر وقوع پذیر ہوتی ہے۔
- اس کے لیے کسی مصنوعی جینیاتی ترمیم کی ضرورت نہیں ہوتی۔
- ایسے سیب تقریباً دس لاکھ میں سے ایک بار سامنے آتے ہیں۔
- ہر کیمیرا ایپل کی شکل اور رنگت مختلف ہو سکتی ہے۔
اسی نایابیت نے اسے دنیا کے دلچسپ ترین پھلوں میں شامل کر دیا ہے۔
لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ
کرائسٹ چرچ کی فروٹ شاپ میں اس منفرد سیب کی موجودگی کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد اسے دیکھنے کے لیے آنے لگی۔
بچوں، طلبہ، سائنس کے شوقین افراد اور میڈیا نمائندوں نے اس سیب میں خاص دلچسپی ظاہر کی۔
بعض افراد نے اسے قدرت کا شاہکار قرار دیا جبکہ کچھ نے اسے آرٹ کے نمونے سے تشبیہ دی۔
دکان کی مالکہ کا ردعمل
فروٹ شاپ کی مالکہ Heather نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیب اب مقامی سطح پر ایک “سیلیبریٹی” بن چکا ہے۔
ان کے مطابق روزانہ متعدد افراد صرف اس منفرد سیب کو دیکھنے کے لیے دکان پر آتے ہیں اور اس کے ساتھ تصاویر بھی بنواتے ہیں۔
جینیات کے میدان میں اہمیت
سائنس دانوں کے مطابق کیمیرا ایپل صرف ایک دلچسپ پھل ہی نہیں بلکہ جینیات کے میدان میں بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اس قسم کے پھلوں کا مطالعہ:
- جینیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
- پودوں کی نشوونما کے عمل پر روشنی ڈالتا ہے۔
- نباتاتی تحقیق میں نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرت میں پائے جانے والے ایسے نایاب مظاہر جینیات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے قیمتی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر مقبولیت
کیمیرا ایپل کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
صارفین اس سیب کی منفرد شکل کو حیران کن قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض لوگ اسے “قدرت کا آرٹ ورک” بھی کہہ رہے ہیں۔
تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے یہ نایاب سیب دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ حاصل کر چکا ہے۔
کیمیرا ایپل قدرت کی ایک حیرت انگیز تخلیق ہے جو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دریافت ہوا۔ آدھے سرخ اور آدھے پیلے رنگ پر مشتمل یہ نایاب سیب جینیاتی تنوع اور قدرتی عجائبات کی ایک منفرد مثال ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کا سیب لاکھوں میں سے صرف ایک بار سامنے آتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی سائنسی اور عوامی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
READ MORE FAQS
سوال: کیمیرا ایپل کیا ہے؟
جواب: یہ ایک نایاب سیب ہے جس میں دو مختلف جینیاتی ساخت رکھنے والے خلیات موجود ہوتے ہیں۔
سوال: یہ سیب کہاں دریافت ہوا؟
جواب: نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں۔
سوال: اس سیب کی خاص بات کیا ہے؟
جواب: اس کا ایک حصہ سرخ جبکہ دوسرا حصہ پیلے رنگ کا ہے








