جے ڈی وینس کا دورہ سوئٹزرلینڈ مؤخر، امریکہ ایران امن معاہدے کے بعد تکنیکی مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار
واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے کے بعد طے پانے والے تکنیکی مذاکرات ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن کا اپنا مجوزہ دورہ مؤخر کر دیا ہے جہاں انہیں ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی تکنیکی تفصیلات پر بات چیت کرنی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق مذاکراتی عمل سے متعلق سفری اور انتظامی امور تاحال مکمل طور پر طے نہیں ہو سکے، جس کے باعث نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ سوئٹزرلینڈ مؤخر۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ مذاکرات کے منصوبے ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے اور امریکی وفد مناسب وقت پر روانگی کے لیے تیار ہے، تاہم فی الحال جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ نہیں جا رہے۔
ادھر ایرانی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ مذاکرات کی حتمی تاریخ ابھی مقرر نہیں ہوئی۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز ایک تاریخی امن معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی اور جنگ کا خاتمہ ہے۔
14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک کو 60 روز کے اندر معاہدے کی تکنیکی اور عملی تفصیلات طے کرنا ہوں گی۔ جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ معاہدے کے پہلے مرحلے پر مکمل عملدرآمد کے لیے پُرعزم ہے اور 60 روزہ مدت کا آغاز جمعرات سے ہو چکا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگرچہ امریکہ ایران امن معاہدے نافذ العمل ہو چکا ہے، تاہم اصل چیلنج اب ان نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے، آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی سے متعلق ہیں۔
JD Vance delays trip to Switzerland to lead new US talks with Iran on its nuclear program https://t.co/aYFgwg2pEi
— ABC7 Eyewitness News (@ABC7) June 19, 2026
READ MORE FAQS”
امریکہ ایران معاہدے کے بعد کیا ہوا؟
تکنیکی مذاکرات ابھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔
جے ڈی وینس کا دورہ کیوں مؤخر ہوا؟
سفری اور انتظامی امور مکمل نہ ہونے کی وجہ سے۔
کیا معاہدہ ختم ہو گیا ہے؟
نہیں، معاہدہ برقرار ہے مگر تکنیکی مراحل باقی ہیں۔
اگلا مرحلہ کیا ہے؟
60 دن کے اندر تکنیکی اور عملی تفصیلات طے کی جائیں گی۔






