تحریک تحفظ آئین پاکستان وفد راولا کوٹ جانے سے روک دیا گیا، چکیاں میں دھرنا

تحریک تحفظ آئین پاکستان وفد راولا کوٹ جانے سے روکا گیا
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

راولا کوٹ جانے سے روکا گیا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے چکیاں میں دھرنا دے دیا

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کو راولا کوٹ جانے سے روک دیا گیا، جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے درمیان واقع چکیاں کے مقام پر احتجاجاً دھرنا دے دیا۔

ذرائع کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کا وفد قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں راولا کوٹ روانہ ہوا تھا۔ وفد کا مقصد عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری احتجاج میں شرکت کرنا، دھرنے کے شرکاء سے اظہارِ یکجہتی کرنا اور مقامی قیادت سے ملاقات کرنا تھا۔

وفد میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور تحریک کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی بھی شامل تھے۔

ترجمان کے مطابق وفد عوامی حقوق، آئینی بالادستی، جمہوری آزادیوں اور سیاسی مسائل کے حل کے حوالے سے یکجہتی کا پیغام لے کر راولا کوٹ جا رہا تھا۔

پولیس نے راستہ روک دیا

اسلام آباد سے راولا کوٹ جانے والے وفد کو کہوٹہ کے قریب پولیس نے روک لیا۔ پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اعلیٰ حکام کی ہدایات کے تحت وفد کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

وفد کے اراکین نے پولیس سے قانونی جواز پوچھا تاہم انہیں کوئی واضح تحریری حکم نہیں دکھایا گیا۔ اس دوران اپوزیشن رہنماؤں اور پولیس کے درمیان مذاکرات بھی جاری رہے۔

شاہد خاقان عباسی کا ردعمل

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ راولا کوٹ جا کر یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہاں احتجاج کیوں جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مرکزی اپوزیشن قیادت کو آزاد کشمیر جانے سے روکے گی تو اس سے مثبت پیغام نہیں جائے گا۔ ان کے مطابق اگر گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت نہ ملی تو وہ پیدل کشمیر جانے پر بھی تیار ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ پاکستان کی مرکزی سیاسی قیادت کو کشمیر جانے سے روکنے پر بھارت کو خوشی ہوگی، اس لیے ایسی پابندیاں قومی مفاد کے مطابق نہیں۔

محمود خان اچکزئی کا بیان

قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وفد کسی تصادم کے لیے نہیں بلکہ مذاکرات اور بات چیت کے لیے راولا کوٹ جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کرنے والوں کے مطالبات جائز ہوئے تو ان کی حمایت کی جائے گی جبکہ اگر مسائل کا کوئی بہتر حل موجود ہوا تو انہیں مشورہ بھی دیا جائے گا۔

علامہ راجہ ناصر عباس کا مؤقف

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پاکستان کی مرکزی سیاسی قیادت کو آزاد کشمیر جانے سے روکنے سے منفی تاثر پیدا ہوا ہے۔

ان کے مطابق پولیس صرف یہ کہہ رہی ہے کہ انہیں اوپر سے حکم ملا ہے، جبکہ کسی قانونی بنیاد سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

چکیاں میں دھرنا

پولیس کی جانب سے راستہ بند کیے جانے کے بعد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے چکیاں کے مقام پر احتجاجاً دھرنا دے دیا۔

دھرنے میں محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، شاہد خاقان عباسی، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آئینی اور جمہوری حق کے تحت آزاد کشمیر جانا چاہتے تھے، تاہم انہیں راستے میں روک دیا گیا۔

دوسری جانب پولیس اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر بعض حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں مختلف سیاسی اور عوامی حلقے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں اور اپوزیشن جماعتیں ان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سرگرم ہیں۔

READ MORE FAQS

سوال 1: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کو کہاں روکا گیا؟

وفد کو کہوٹہ کے قریب چکیاں کے مقام پر پولیس نے روک دیا۔

سوال 2: وفد کی قیادت کون کر رہا تھا؟

وفد کی قیادت قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کر رہے تھے۔

سوال 3: وفد میں کون کون شامل تھا؟

وفد میں شاہد خاقان عباسی، علامہ راجہ ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور حسین احمد یوسفزئی شامل تھے۔

سوال 4: وفد راولا کوٹ کیوں جا رہا تھا؟

وفد عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنے میں شرکت اور اظہارِ یکجہتی کے لیے راولا کوٹ جا رہا تھا۔