سندھ ہائیکورٹ نے کسٹمز کی کارروائی کالعدم قرار دے کر ضبط شدہ ڈیزل، آئل ٹینکرز اور املاک واپس کرنے کا حکم دے دیا
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کسٹمز کی کارروائی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کی جانب سے درج مقدمہ کالعدم قرار دے دیا اور ضبط شدہ ڈیزل، آئل ٹینکرز اور سیل کی گئی املاک فوری طور پر درخواست گزار کمپنیوں کے حوالے کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
دو رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس سلیم جیسر نے کی، نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ کسٹمز حکام قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت کے مطابق مقدمہ چار روز کی تاخیر سے درج کیا گیا جبکہ ایف آئی آر میں جرم کی تاریخ اور وقت جیسی بنیادی معلومات بھی شامل نہیں تھیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی کے خلاف کارروائی غیر قانونی تھی کیونکہ تمام پیٹرولیم مصنوعات سرکاری نیلامی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق حاصل کی گئی تھیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کسٹمز اہلکار متعدد بار بغیر سرچ وارنٹ کمپنی کے احاطے میں داخل ہوئے اور قانون کے تقاضوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کارروائیاں کیں۔
دوسری جانب کسٹمز حکام نے عدالت کو بتایا کہ کیماڑی میں دو آئل ٹینکرز کو روک کر ان کی تلاشی لی گئی تھی اور ڈرائیوروں نے مبینہ طور پر ڈلیوری آرڈرز دوبارہ استعمال کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کمپنی غیر قانونی پیٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت میں ملوث تھی اور فوری کارروائی کے دوران سرچ وارنٹ لینا ممکن نہیں تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسٹمز ایکٹ کے تحت سرچ وارنٹ حاصل کرنا قانونی تقاضا ہے اور صرف انتہائی ہنگامی حالات میں محدود کارروائی بغیر وارنٹ کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ابتدائی ضبطگی کے بعد مزید کارروائی کے لیے مجسٹریٹ سے سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا گیا، جس سے پوری کارروائی قانونی طور پر مشکوک ہو گئی۔
تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کسٹمز حکام ڈلیوری آرڈرز جاری کرنے والے متعلقہ اداروں کے افسران کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کر سکے اور نہ ہی یہ ثابت کر سکے کہ ضبط شدہ پیٹرولیم مصنوعات غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھیں۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ تمام سرکاری ادارے اپنے اختیارات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے استعمال کرنے کے پابند ہیں۔ عدالت کے مطابق قانون سے ہٹ کر کی جانے والی کارروائی نہ صرف شہریوں کے حقوق متاثر کرتی ہے بلکہ انصاف کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہوتی ہے۔
فیصلے کے مطابق ضبط شدہ تقریباً 8 لاکھ 90 ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل، آئل ٹینکرز اور سیل کی گئی املاک فوری طور پر درخواست گزار کمپنیوں کے حوالے کی جائیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل میں کسٹمز اور دیگر نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی تفتیش یا ضبطگی کے دوران قانونی تقاضوں کی مکمل پابندی ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانونی طریقہ کار پر عمل درآمد ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں عدلیہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مداخلت کر سکتی ہے۔
READ MORE FAQS
- سندھ ہائیکورٹ نے کیا فیصلہ دیا؟
عدالت نے کسٹمز کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضبط شدہ ڈیزل، آئل ٹینکرز اور املاک واپس کرنے کا حکم دیا۔
- عدالت نے کارروائی غیر قانونی کیوں قرار دی؟
کیونکہ کسٹمز حکام نے سرچ وارنٹ حاصل نہیں کیا، مقدمہ تاخیر سے درج کیا اور قانونی تقاضے مکمل نہیں کیے۔
- کتنی مقدار میں ڈیزل ضبط کیا گیا تھا؟
تقریباً 8 لاکھ 90 ہزار لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل ضبط کیا گیا تھا۔
- کسٹمز حکام پر عدالت نے کیا ریمارکس دیے؟
عدالت نے کہا کہ سرکاری ادارے اپنے اختیارات صرف قانون کے مطابق استعمال کرنے کے پابند ہیں۔








