پاکستان اور قطر کی امریکا ایران جنگ بندی کے لیے نئی سفارتی کوششیں، مذاکرات بحال کرانے کے رابطے

پاکستان اور قطرامریکا ایران جنگ بندی کے لیے سفارتی رابطے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان اور قطر کی امریکا ایران جنگ بندی کے لیے نئی سفارتی کوششیں، مذاکرات بحال کرانے کے رابطے، کشیدگی سے قبل امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کی اسلام آباد میں تکنیکی مذاکرات کے لیے ملاقات متوقع تھی

اسلام آباد: ترک خبر رساں ایجنسی انادولو نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور قطر نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی رابطوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ثالثی کے عمل سے واقف پاکستانی حکومتی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور قطر مشترکہ طور پر واشنگٹن اور تہران سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ دونوں ممالک امریکا ایران جنگ بندی پر عمل کریں، کشیدگی کم کریں اور معاہدے کے تحت مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کریں۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ سفارتی کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت جاری ہیں، جس کا مقصد مستقل امریکا ایران جنگ بندی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

آبنائے ہرمز حملوں کے بعد پاکستان کا ہنگامی ایل این جی ٹینڈر
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے بعد پاکستان نے فوری ایل این جی کارگو کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال توقعات سے زیادہ پیچیدہ ثابت ہوئی ہے، تاہم اسلام آباد کو یقین ہے کہ دونوں ممالک مکمل جنگ سے گریز کریں گے کیونکہ ایسی جنگ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ مستقبل میں محدود جھڑپوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، لیکن ثالثوں کی فوری ترجیح دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ اور مذاکرات کی بحالی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تازہ کشیدگی سے قبل امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کی اسلام آباد میں تکنیکی مذاکرات کے لیے ملاقات متوقع تھی، تاہم حالیہ صورتحال کے باعث یہ عمل مؤخر ہوگیا۔

پاکستانی ذرائع نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کو امید ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد مذاکرات کا اگلا دور پاکستان میں ہی منعقد ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور علاقائی کشیدگی نے بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو متاثر کیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک کو مستقل امن معاہدے کے لیے 60 روز کی مدت دی گئی تھی۔ بعد ازاں سوئٹزرلینڈ اور دوحہ میں تکنیکی مذاکرات ہوئے، جبکہ اگلا دور اسلام آباد میں ہونا تھا، تاہم حالیہ فوجی کشیدگی کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔

 
READ MORE FAQS”

پاکستان اور قطر کس مقصد کے لیے سفارتی رابطے کر رہے ہیں؟
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کیا ہے؟
یہ ایک سفارتی فریم ورک ہے جس کے تحت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور مستقل امن کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اسلام آباد میں مذاکرات کیوں مؤخر ہوئے؟
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اور حملوں کے باعث مذاکرات ملتوی ہوئے۔

کیا پاکستان دوبارہ مذاکرات کی میزبانی کرے گا؟
ذرائع کے مطابق حالات بہتر ہونے پر اسلام آباد میں مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کی توقع کی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں