بلاول بھٹو کا جوائنٹ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے خط کا جواب موصول ہونے کی تصدیق، بحران کے حل کے لیے مشاورت کا اعلان
مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انہیں کالعدم جوائنٹ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ان کے خط کا جواب موصول ہوگیا ہے، جس میں ٹروتھ اینڈ ریکنسیلیشن کمیشن کے قیام کی تجویز پر مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہوں نے آزاد کشمیر میں حالیہ بحران کے تناظر میں ٹروتھ اینڈ ریکنسیلیشن کمیشن کے قیام کی تجویز دی تھی، جس کے جواب میں جوائنٹ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی اپنی تجاویز ارسال کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کمیٹی نے مجوزہ کمیشن کو آئندہ پیش رفت کے لیے ممکنہ ادارہ جاتی راستے کے طور پر قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ وہ کمیٹی کی تجاویز کا بھی تفصیلی جائزہ لیں گے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس کمیشن کی توثیق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی بھی کر چکی ہے اور وہ اس سلسلے میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم سے بھی مشاورت کریں گے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین سے ابتدائی رائے بھی حاصل کی جائے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متفقہ تجاویز کو عملی شکل دینے کے لیے مشترکہ بنیاد موجود ہے یا نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر قیمتی جان کا ضیاع ایک قومی سانحہ ہے اور موجودہ صورتحال میں ان کی اولین ترجیح بحران کے خاتمے میں مدد فراہم کرنا، متاثرہ عوام کو فوری ریلیف دینا اور آزاد کشمیر میں معمولاتِ زندگی کی بحالی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایسا قابلِ قبول اور پائیدار حل تلاش کیا جائے جو خطے میں امن، استحکام اور عوامی اعتماد کی بحالی میں معاون ثابت ہو۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا آزاد کشمیر میں سچ اور مفاہمت کے کمیشن کے قیام کے حوالے سے ویڈیو پیغام
کشمیر کے عوام کی مشکلات فوری ختم ہونا چاہئیں، انٹرنیٹ اور بینکنگ بحال ہونا چاہئیے، کھانا دوا اور ضروری سامان ان تک پہنچنا چاہئیے۔
تعلیم، کاروبار اور روزگار… pic.twitter.com/aV0FioDf0M
— PPP (@MediaCellPPP) August 1, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: بلاول بھٹو نے کیا اعلان کیا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ جوائنٹ کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے ان کے خط کا جواب دیا ہے اور ٹروتھ اینڈ ریکنسیلیشن کمیشن کی تجویز پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
سوال 2: ٹروتھ اینڈ ریکنسیلیشن کمیشن کیا ہے؟
جواب: یہ ایک مجوزہ ادارہ جاتی فورم ہے جس کا مقصد بحران کے حل، اعتماد کی بحالی اور مختلف فریقین کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینا ہے۔
سوال 3: اب آئندہ کیا ہوگا؟
جواب: بلاول بھٹو کے مطابق آزاد کشمیر کے وزیراعظم، وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
سوال 4: بلاول بھٹو کی ترجیح کیا ہے؟
جواب: ان کے مطابق موجودہ بحران کا خاتمہ، متاثرہ عوام کو فوری ریلیف دینا اور آزاد کشمیر میں معمولاتِ زندگی کی بحالی ان کی اولین ترجیح ہے۔






