راولپنڈی میں فوج کی تین کمپنیاں 6 ماہ کیلئے تعینات کرنے کی منظوری، فوجی دستے فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کے ماتحت دستیاب ہوں گے اور انہیں تفویض کردہ سکیورٹی ذمہ داریاں انجام دینا ہوں گی
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاکستان آرمی کی تین کمپنیاں چھ ماہ کے لیے تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ فوجی اہلکار حساس سکیورٹی ڈیوٹیز انجام دیں گے اور کسی بھی ہنگامی یا غیر متوقع صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری 21 اگست 2026 کے حکم نامے کے مطابق پنجاب کے محکمہ داخلہ کی درخواست پر آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں فوج کی تین کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے۔

حکم نامے کے مطابق راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچاؤ اور ضرورت پڑنے پر فوری طور پر مؤثر کارروائی کرنا ہے۔ فوجی دستے فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کے ماتحت دستیاب ہوں گے اور انہیں تفویض کردہ سکیورٹی ذمہ داریاں انجام دینا ہوں گی۔
فوج کی تعیناتی کیوں کی گئی؟
وزارت داخلہ کے حکم میں راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی کی کسی مخصوص خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی، تاہم راولپنڈی میں ممکنہ امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے اور سکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
راولپنڈی ملک کا اہم گیریژن شہر ہے جہاں اہم فوجی اور سرکاری تنصیبات موجود ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں، احتجاجی مظاہروں، مذہبی اجتماعات اور دیگر بڑے عوامی اجتماعات کے دوران شہر میں عموماً سکیورٹی انتظامات میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
پنجاب کے محکمہ داخلہ کی درخواست اور وفاقی حکومت کی منظوری سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں ممکنہ امن و امان کے مسائل کے پیش نظر اضافی سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ سے ایک ماہ قبل تعیناتی

راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ لانگ مارچ میں تقریباً 20 لاکھ افراد شریک ہوسکتے ہیں۔ فوج کی راولپنڈی میں چھ ماہ کے لیے تعیناتی کی منظوری اس مجوزہ سیاسی سرگرمی سے ایک ماہ سے زائد عرصہ قبل دی گئی ہے۔
راولپنڈی اسلام آباد سے متصل ہونے کی وجہ سے ماضی میں بھی بڑے سیاسی احتجاج اور عوامی اجتماعات کے دوران یہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے رہے ہیں۔
عمران خان کے معاملے پر سیاسی کشیدگی
راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے جب سابق وزیراعظم عمران خان کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کا معاملہ سیاسی تنازع کا باعث بنا ہوا ہے۔
پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک دوسرے پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور توہین عدالت کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کے مطابق عمران خان کو سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا طبی معائنہ کیا اور بعد ازاں انہیں اڈیالہ جیل واپس منتقل کردیا گیا۔
آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت تعیناتی
آئین پاکستان کا آرٹیکل 245 مسلح افواج کو سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے طلب کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے تحت فوج کو امن و امان برقرار رکھنے، اہم تنصیبات کے تحفظ اور ہنگامی حالات میں سول اداروں کی مدد کے لیے تعینات کیا جاسکتا ہے۔
حالیہ حکم کے مطابق راولپنڈی میں تعینات فوجی دستے ابتدائی طور پر چھ ماہ تک ضلعی انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق سکیورٹی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
اس سے قبل بھی پنجاب کے مختلف اضلاع میں محرم، انتخابات، بڑے اجتماعات اور دہشت گردی کے خدشات کے دوران آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی معاونت حاصل کی جاتی رہی ہے۔
According to news nd views...
🚨 Breaking News: Army deployed in Rawalpindi. The federal government has authorised the deployment of three companies of the Pakistan Army in Rawalpindi for six months for “sensitive security duties”. pic.twitter.com/OQcwVNVa58
— *IBNE SIDDIQUI OFFICIAL* (@DrSiddiqui101) August 22, 2026
READ MORE FAQS”
سوال 1: راولپنڈی میں کتنی فوج تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے؟
وفاقی حکومت نے پاکستان آرمی کی تین کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔
سوال 2: راولپنڈی میں فوج کتنے عرصے کے لیے تعینات ہوگی؟
فوج کی تعیناتی ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے منظور کی گئی ہے۔
سوال 3: فوج کو راولپنڈی میں کیوں تعینات کیا گیا ہے؟
وزارت داخلہ کے مطابق فوج حساس سکیورٹی ڈیوٹیز انجام دے گی، کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچاؤ اور غیر متوقع حالات میں ضلعی انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔
سوال 4: فوج کی تعیناتی کس آئینی شق کے تحت ہوئی؟
راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی آئین پاکستان کے آرٹیکل 245 کے تحت منظور کی گئی ہے۔






