چین کی معروف کمپنی کا پنجاب کے آئی ٹی سیکٹر میں اظہار دلچسپی
چینی کمپنی پنجاب آئی ٹی سیکٹر میں تعاون اور شراکت داری کے امکانات میں دلچسپی رکھتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات کے دوران مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مختلف عوامی شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں زراعت، ہیلتھ کیئر، سماجی و اقتصادی پروگرامز اور موسمیاتی پیش گوئی کے شعبوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ پبلک سروسز کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی اسٹریٹجک پارٹنرشپ پر بھی غور کیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں گورننس کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے منسلک کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت مستقبل کی بجائے موجودہ دور میں ہی اے آئی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کی پالیسی پر عمل کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مصنوعی ذہانت کو مختلف حکومتی شعبوں میں استعمال کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی کو زیادہ مؤثر اور جدید بنایا جاسکے۔
وزیراعلیٰ نے صحت کے شعبے میں بھی پنجاب حکومت کے منصوبوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ صوبے میں ایک بڑے پبلک سیکٹر کینسر ہسپتال کے قیام پر کام کیا جا رہا ہے۔
مریم نواز شریف کے مطابق پنجاب مصنوعی ذہانت کے حوالے سے اہم اقدامات کرنے والا صوبہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری اسکولوں کے بچوں کو مصنوعی ذہانت کی تعلیم دینے کا تصور انہیں بیجنگ میں طلبہ کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد ملا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس سمیت جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین کے تعاون کا خیرمقدم کرے گی۔ ان کے مطابق چینی تجربات اور تکنیکی مہارت سے پنجاب میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو مزید آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
مریم نواز نے پنجاب کی نوجوان اور ہنرمند افرادی قوت کو صوبے کی بڑی طاقت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب نوجوان اور سکلڈ ورک فورس کے لحاظ سے دنیا کے بڑے خطوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ صوبہ ڈیجیٹل اکانومی کے میدان میں بھی قائدانہ کردار ادا کررہا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب حکومت نے صرف سرکاری افسران اور اہلکاروں ہی کو نہیں بلکہ کابینہ ارکان کو بھی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تربیت فراہم کی ہے۔
ملاقات میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ مصنوعی ذہانت کو حکومتی نظام میں شامل کرکے فیصلہ سازی، عوامی خدمات، وسائل کے بہتر استعمال اور مختلف سرکاری پروگرامز کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔
زراعت کے شعبے میں اے آئی کے استعمال سے فصلوں کی نگرانی، پیداوار میں بہتری اور موسمیاتی خطرات کی پیشگی نشاندہی جیسے اقدامات پر بھی تعاون کے امکانات زیر غور آئے۔
اسی طرح ہیلتھ کیئر کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے تشخیص، ڈیٹا مینجمنٹ اور عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی۔
موسمیاتی تبدیلی اور موسم کی پیش گوئی کے شعبے میں بھی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے استعمال کو اہم قرار دیا گیا۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے موسم سے متعلق ڈیٹا کے بہتر تجزیے سے حکومتی اداروں کو بروقت فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ملاقات کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سمال اور میڈیم انٹرپرائزز سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ اس حوالے سے سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی کمپنی کی جانب سے پنجاب کے آئی ٹی اور اے آئی شعبوں میں دلچسپی کو صوبے میں ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ دونوں جانب سے تعاون کے امکانات کا جائزہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں گورننس، کاروبار، صحت، زراعت اور تعلیم کے شعبوں میں تیزی سے استعمال ہو رہی ہے۔
READ MORE FAQS
سوال: چینی کمپنی نے پنجاب کے کس شعبے میں دلچسپی ظاہر کی؟
جواب: چینی کمپنی نے پنجاب کے آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبوں میں تعاون اور شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کی۔
سوال: ملاقات میں کن شعبوں میں اے آئی کے استعمال پر بات ہوئی؟
جواب: زراعت، ہیلتھ کیئر، سماجی و اقتصادی پروگرامز، موسمیاتی پیش گوئی اور پبلک سروسز میں اے آئی کے استعمال پر گفتگو ہوئی۔
سوال: مریم نواز نے چینی تعاون کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور آئی ٹی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چینی تعاون کا خیرمقدم کرنے کا کہا۔
سوال: پنجاب میں اے آئی کے حوالے سے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟
جواب: وزیراعلیٰ کے مطابق پنجاب میں گورننس کو اے آئی سے مربوط کیا جا رہا ہے اور سرکاری افسران، اہلکاروں اور کابینہ ارکان کو اے آئی کی تربیت بھی دی گئی ہے۔








