اے ڈی بی کا پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر قرض، انشورنس نظام کو جدید بنانے کا منصوبہ

اے ڈی بی 70 کروڑ ڈالر قرض پاکستان انشورنس اصلاحات
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اے ڈی بی نے پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر قرض منظور کرلیا، انشورنس شعبے میں بڑی اصلاحات کا آغاز

اے ڈی بی 70 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری پاکستان کے مالیاتی شعبے کیلئے ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے پاکستان میں انشورنس سیکٹر کی اصلاحات، مالی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے اور معیشت کو مزید مستحکم کرنے کیلئے 70 کروڑ ڈالر کے پالیسی بیسڈ قرض کی منظوری دے دی ہے۔

اس پروگرام کا بنیادی مقصد ملک بھر میں انشورنس کوریج کو بڑھانا، مالیاتی تحفظ کے خلا کو کم کرنا، نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دینا اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

اے ڈی بی کی جانب سے منظور کیے گئے انشورنس ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت پاکستان کے انشورنس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ شہریوں، کاروباری اداروں، کسانوں اور سرکاری مالیاتی اداروں کو قدرتی آفات، موسمیاتی تبدیلیوں، معاشی بحرانوں اور دیگر خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں انشورنس کا شعبہ ابھی بھی اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر سکا۔ ملک میں انشورنس مارکیٹ کا حجم مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے صرف 0.7 فیصد کے برابر ہے، جس کے باعث لاکھوں افراد اور کاروباری ادارے مالی خطرات کے مقابلے میں غیر محفوظ رہتے ہیں۔

اس پروگرام کے ذریعے رسک مینجمنٹ کے جدید نظام متعارف کروائے جائیں گے، جس سے قدرتی آفات اور معاشی بحرانوں کے بعد بحالی کا عمل زیادہ تیز اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی خزانے پر پڑنے والے مالی دباؤ میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔

پاکستان میں اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کے مطابق یہ پروگرام انشورنس سیکٹر کو روایتی ضابطہ جاتی نظام سے نکال کر جدید، رسک بیسڈ اور مارکیٹ پر مبنی فریم ورک کی طرف منتقل کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے طویل المدتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور انشورنس مارکیٹ مزید مضبوط، مسابقتی اور جامع بنے گی۔

خصوصی طور پر کسانوں، خواتین، کم آمدنی والے گھرانوں اور کمزور طبقات کیلئے نئی انشورنس مصنوعات متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ خواتین اور بچیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی انشورنس پیکیجز، ڈیجیٹل رسائی اور صنفی بنیادوں پر ڈیٹا کے استعمال کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

پروگرام کے تحت جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بڑھایا جائے گا۔ سیٹلائٹ کے ذریعے رسک اسیسمنٹ، پیرا میٹرک انشورنس، ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن سسٹمز اور رسک پولنگ جیسے جدید طریقہ کار متعارف کروائے جائیں گے۔ اس سے انشورنس دعوؤں کی ادائیگی تیز ہوگی اور عام شہریوں کی خدمات تک رسائی آسان بنائی جا سکے گی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف انشورنس سیکٹر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی منڈیوں، بانڈ مارکیٹ اور نجی پنشن مصنوعات کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ طویل المدتی بچتوں کو متحرک کر کے انفرااسٹرکچر منصوبوں کیلئے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

حکومتی اور مالیاتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اے ڈی بی 70 کروڑ ڈالر قرض پاکستان کی مالیاتی پالیسیوں کو مزید مضبوط بنانے، نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور مالیاتی تحفظ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

یہ پروگرام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں، معاشی دباؤ اور مالیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے جامع اصلاحات پر توجہ دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ان اصلاحات پر مؤثر عملدرآمد کیا گیا تو یہ پروگرام پاکستان کی اقتصادی استحکام، سرمایہ کاری اور مالیاتی تحفظ کے نظام میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔

READ MORE FAQS

اے ڈی بی نے پاکستان کیلئے کتنے قرض کی منظوری دی ہے؟

اے ڈی بی نے پاکستان کیلئے 70 کروڑ ڈالر کے پالیسی بیسڈ قرض کی منظوری دی ہے۔

قرض کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

انشورنس شعبے کی اصلاحات، مالی تحفظ میں اضافہ اور جدید انشورنس نظام کا قیام۔

اس پروگرام سے کن طبقات کو فائدہ ہوگا؟

کسانوں، خواتین، کاروباری اداروں، کم آمدنی والے گھرانوں اور دیگر کمزور طبقات کو۔

پاکستان میں انشورنس سیکٹر کا حجم کتنا ہے؟

اے ڈی بی کے مطابق پاکستان میں انشورنس سیکٹر جی ڈی پی کے تقریباً 0.7 فیصد کے برابر ہے۔

متعلقہ خبریں

اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہو۔  الحجرات: 6

🕌 نماز کے اوقات

فجر03:13 AM
طلوع آفتاب04:57 AM
ظہر12:09 PM
عصر03:53 PM
مغرب07:20 PM
عشاء09:04 PM