سیپری رپورٹ: ایشیا میں فوجی اخراجات میں 2009 کے بعد سب سے بڑا اضافہ، عالمی سطح پر بھی نیا ریکارڈ قائم
ایشیائی ممالک کے عسکری اخراجات میں حالیہ برسوں کے دوران جو تیز رفتار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وہ نہ صرف خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کی بھی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ 2025 کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق یہ رجحان مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جو اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایشیا اب عالمی عسکری توازن کا ایک مرکزی میدان بنتا جا رہا ہے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں ایشیائی ممالک کے فوجی اخراجات 681 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.1 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ 2009 کے بعد سب سے بڑا سالانہ اضافہ تصور کیا جا رہا ہے، جو خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات اور دفاعی ضروریات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر اس رجحان کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جہاں ممالک اپنی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے غیر معمولی وسائل مختص کر رہے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2025 میں دنیا بھر کے عسکری اخراجات 2.887 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے، جو 2024 کے مقابلے میں حقیقی معنوں میں 2.9 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، چاہے وہ علاقائی تنازعات ہوں، عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی ہو یا نئی ٹیکنالوجیز کی دوڑ۔
اگر ہم بڑے عسکری اخراجات رکھنے والے ممالک پر نظر ڈالیں تو امریکا، چین اور روس بدستور سرفہرست ہیں۔ ان تینوں ممالک کے مشترکہ فوجی اخراجات 1.480 ٹریلین ڈالر ہیں، جو عالمی اخراجات کا تقریباً 51 فیصد بنتے ہیں۔ یہ حقیقت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی سطح پر عسکری طاقت کا بڑا حصہ چند ممالک کے ہاتھ میں مرتکز ہے، جو نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھا رہے ہیں بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔
چین، جو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا عسکری اخراجات رکھنے والا ملک ہے، نے 2025 میں اپنے دفاعی بجٹ میں 7.4 فیصد اضافہ کر کے اسے 336 ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔ یہ مسلسل 31واں سال ہے کہ چین اپنے عسکری اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس مسلسل اضافے کے پیچھے چین کی وہ حکمت عملی کارفرما ہے جس کے تحت وہ اپنی فوج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا چاہتا ہے۔ چین نہ صرف روایتی ہتھیاروں بلکہ سائبر وارفیئر، مصنوعی ذہانت اور خلا میں عسکری صلاحیتوں کے فروغ پر بھی بھرپور توجہ دے رہا ہے، جو مستقبل کی جنگوں کی نوعیت کو تبدیل کر سکتا ہے۔
بھارت، جو 2025 میں دنیا کا پانچواں بڑا عسکری خرچ کرنے والا ملک بن چکا ہے، نے بھی اپنے فوجی اخراجات میں 8.9 فیصد اضافہ کر کے انہیں 92.1 ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔ بھارت کے اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً چین کے ساتھ سرحدی تنازعات اور اپنی فوج کی جدید کاری شامل ہیں۔ بھارت جدید ہتھیاروں کی خریداری، دفاعی پیداوار میں خود کفالت، اور نئی عسکری ٹیکنالوجیز کے حصول پر بھرپور سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان، جو بھارت کا دیرینہ حریف سمجھا جاتا ہے، نے بھی اپنے فوجی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 2025 میں پاکستان کے دفاعی اخراجات 11 فیصد بڑھ کر 11.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ اگرچہ یہ رقم بھارت اور چین کے مقابلے میں کم ہے، تاہم پاکستان اپنی دفاعی حکمت عملی کو مؤثر بنانے کے لیے محدود وسائل کے باوجود اہم اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستان کی توجہ خاص طور پر دفاعی توازن برقرار رکھنے، داخلی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے، اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے حصول پر مرکوز ہے۔
ایشیا میں عسکری اخراجات کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم عنصر علاقائی تنازعات ہیں، جن میں جنوبی چین کا سمندر، بھارت-چین سرحدی کشیدگی، اور کورین جزیرہ نما کی صورتحال شامل ہیں۔ ان تنازعات نے ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کر سکیں۔
مزید برآں، عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت بھی اس رجحان کو تقویت دے رہی ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ بازی، روس کے ساتھ کشیدگی، اور نئی عالمی صف بندیوں نے دفاعی اخراجات میں اضافے کو ناگزیر بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجیز، جیسے مصنوعی ذہانت، ڈرونز، اور سائبر ہتھیاروں کی دوڑ نے بھی عسکری بجٹ میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم، عسکری اخراجات میں یہ مسلسل اضافہ کئی سوالات کو بھی جنم دیتا ہے۔ ایک طرف یہ ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش ہے، تو دوسری طرف یہ وسائل کی ایسی تقسیم بھی ہے جو تعلیم، صحت اور سماجی ترقی جیسے اہم شعبوں سے توجہ ہٹا سکتی ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ دفاعی ضروریات اور عوامی فلاح کے درمیان توازن کیسے قائم رکھیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایشیا میں عسکری اخراجات کا بڑھتا ہوا رجحان ایک پیچیدہ اور کثیر الجہتی مسئلہ ہے، جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو مستقبل میں عالمی طاقت کا توازن مزید تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نئے اتحاد، نئی کشیدگیاں اور ممکنہ طور پر نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ممالک نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کریں بلکہ سفارتی ذرائع کو بھی بروئے کار لاتے ہوئے امن اور استحکام کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں۔

