بنوں گرلز اسکول دھماکا: سرکاری اسکول کی دیوار تباہ، طالبات محفوظ
بنوں گرلز اسکول دھماکا کے واقعے میں خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے خیراکی میں واقع ایک سرکاری گرلز اسکول کی بیرونی دیوار بارودی مواد کے دھماکے سے منہدم ہوگئی۔
پولیس کے مطابق دھماکا خیز مواد اسکول کی بیرونی دیوار کے ساتھ نصب کیا گیا تھا، جس کے پھٹنے سے عمارت کے ایک حصے کو نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق اسکول میں 80 سے زائد طالبات زیرِ تعلیم ہیں، تاہم موسم گرما کی تعطیلات کے باعث واقعے کے وقت اسکول بند تھا، جس کے باعث کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
دھماکے کے فوراً بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی متعلقہ حکام کو مزید احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔
READ MORE FAQS
بنوں میں دھماکا کہاں ہوا؟
خیراکی کے گورنمنٹ گرلز اسکول کی بیرونی دیوار کے قریب بارودی مواد کا دھماکا ہوا۔
کیا دھماکے میں کوئی جانی نقصان ہوا؟
نہیں، موسم گرما کی تعطیلات کے باعث اسکول خالی تھا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسکول میں کتنی طالبات زیرِ تعلیم ہیں؟
پولیس کے مطابق اسکول میں 80 سے زائد طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔
دھماکے کے بعد کیا اقدامات کیے گئے؟
پولیس نے علاقے کی سکیورٹی سخت کر دی، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔








