بھارت اور پاکستان کی 117 ممتاز شخصیات کا شہباز شریف اور مودی کو کھلا خط، مذاکرات اور تعلقات بحالی کا مطالبہ

پاکستان اور بھارت کی 117 ممتاز شخصیات نے شہباز شریف اور مودی کو کھلا خط، جس میں امن مذاکرات اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کی اپیل کی۔
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

بھارت اور پاکستان کی 117 ممتاز شخصیات کا شہباز شریف اور مودی کو کھلا خط، امن مذاکرات اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد / نئی دہلی: پاکستان اور بھارت کی 117 ممتاز شخصیات نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم شہباز شریف اور نریندر مودی کے نام ایک مشترکہ کھلا خط جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے دوطرفہ مذاکرات، سفارتی تعلقات اور عوامی روابط کی بحالی کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

یہ مشترکہ اپیل سنٹر فار پیس اینڈ پروگریس (Center for Peace and Progress) کی جانب سے جاری کی گئی، جس پر پاکستان سے 56 اور بھارت سے 61 ممتاز شخصیات نے دستخط کیے۔ دستخط کنندگان میں سابق وزرائے خارجہ، سفارتکار، سیاستدان، صحافی، ماہرین تعلیم، سماجی کارکن اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہیں۔

شہباز شریف اور مودی کو کھلا خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل کشیدگی دونوں ممالک کے کروڑوں شہریوں، خصوصاً نوجوان نسل، کو ترقی، روزگار، تجارت اور محفوظ مستقبل کے مواقع سے محروم کر رہی ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ دشمنی اور محاذ آرائی کے بجائے مکالمہ، تعاون اور باہمی اعتماد کا راستہ اختیار کیا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف ایران دورہ
وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکی کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔

اعتماد سازی کے اقدامات پر زور

شہباز شریف اور مودی کو کھلا خط میں دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات (Confidence Building Measures) کو فوری طور پر بحال کیا جائے، جن میں: نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنرز کی دوبارہ تعیناتی، مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی، معمول کی ویزا سروسز کا دوبارہ آغاز، کمرشل پروازوں اور فضائی حدود کی بحالی، واہگہ۔اٹاری بارڈر کو تجارت اور آمدورفت کے لیے کھولنا
دہلی۔لاہور بس سروس، سمجھوتہ ایکسپریس، تھر ایکسپریس اور سرینگر۔مظفرآباد بس سروس کی بحالی اورعوامی، ثقافتی، تعلیمی اور تجارتی روابط کو فروغ دینا جیسے اقدامات شامل ہیں۔

کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر مذاکرات کی اپیل

شہباز شریف اور مودی کو کھلا خط میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر جامع، بامعنی اور مسلسل مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں، جبکہ دونوں ممالک کے سکیورٹی خدشات کو بھی سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔

دستخط کنندگان نے زور دیا کہ جنگ اور کشیدگی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، جبکہ مذاکرات ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

کن شخصیات نے دستخط کیے؟

بھارت سے دستخط کرنے والوں میں:

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی، حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق
اے ایس دلت (را کے سابق سربراہ)، کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایئر، منوج جھا، ہمایوں کبیر سمیت متعدد سیاسی، سماجی اور تعلیمی شخصیات شامل ہیں۔

راہل گاندھی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور غزہ کے معاملے پر بیان دیتے ہوئے
راہل گاندھی نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے غزہ کے معاملے پر واضح اور انسانی بنیادوں پر مؤقف اپنانے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان سے دستخط کنندگان میں: سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سفارتکار اشرف جہانگیر قاضی، پروفیسر پرویز ہودبھائی، فرحت اللہ بابر، بینا سرور، شیما کرمانی، سلیمہ ہاشمی، اسفندیار بھنڈارا اور دیگر نمایاں شخصیات شامل ہیں۔

خط کا مقصد کیا ہے؟

شہباز شریف اور مودی کو کھلا خط میں واضح کیا گیا کہ اس اپیل کا مقصد کسی سیاسی مؤقف کی حمایت نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام، خصوصاً نوجوان نسل، کے بہتر مستقبل، علاقائی استحکام، معاشی ترقی اور امن کو فروغ دینا ہے۔

بھارتی حکومت کا ردعمل

بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے اس کھلے خط پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب سکیورٹی معاملات اہم ہیں، پاکستان سے مذاکرات کی اپیل مناسب نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی رہنما دہشت گردی کے معاملے پر نرم مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔

پاکستان کا سرکاری مؤقف

اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت کی جانب سے اس مشترکہ اپیل پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: کھلے خط پر کتنی شخصیات نے دستخط کیے؟

جواب: مجموعی طور پر 117 ممتاز شخصیات نے دستخط کیے، جن میں 61 بھارت اور 56 پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں۔

سوال 2: خط کس ادارے کی جانب سے جاری کیا گیا؟

جواب: یہ اپیل سنٹر فار پیس اینڈ پروگریس (Center for Peace and Progress) کی جانب سے جاری کی گئی۔

سوال 3: خط میں اہم مطالبات کیا ہیں؟

جواب: امن مذاکرات کی بحالی، مکمل سفارتی تعلقات، ہائی کمشنرز کی تعیناتی، ویزا سروسز، فضائی پروازوں، تجارت اور عوامی روابط کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سوال 4: کن نمایاں شخصیات نے دستخط کیے؟

جواب: دستخط کنندگان میں فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، میر واعظ عمر فاروق، اے ایس دلت، خورشید محمود قصوری، اشرف جہانگیر قاضی، پرویز ہودبھائی، فرحت اللہ بابر، بینا سرور، شیما کرمانی اور سلیمہ ہاشمی سمیت متعدد ممتاز شخصیات شامل ہیں۔

سوال 5: خط کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

جواب: خطے میں امن، استحکام، عوامی روابط، تجارت اور نوجوان نسل کے بہتر مستقبل کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان بامعنی مذاکرات اور اعتماد سازی کو فروغ دینا۔

متعلقہ خبریں