سونے کی قیمت پاکستان: فی تولہ سونا 5 لاکھ کے قریب پہنچ گیا

سونے کی قیمت پاکستان 5 لاکھ فی تولہ
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پاکستان میں سونا اور چاندی مہنگی، مارکیٹ میں بڑا اضافہ ریکارڈ

عالمی اور مقامی منڈیوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں اور خریداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی صرافہ مارکیٹ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سونے اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو معاشی حالات، عالمی مارکیٹ کے رجحانات اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 600 روپے کا بڑا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 4 لاکھ 99 ہزار 962 روپے تک جا پہنچی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 3 ہزار 943 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 28 ہزار 636 روپے ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں یہ اضافہ عالمی سطح پر غیر یقینی معاشی صورتحال، مہنگائی کے دباؤ اور سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو عام صارفین اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم دھات سمجھی جاتی ہے۔ 24 قیراط فی تولہ چاندی 326 روپے مہنگی ہو کر 8 ہزار 260 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ چاندی کی قیمت میں اضافہ بھی عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب اور صنعتی استعمال میں اضافے کا عکاس ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ جب عالمی سطح پر سیاسی یا معاشی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سرمایہ کار سونے جیسے محفوظ اثاثوں کی جانب رجوع کرتے ہیں، جس کے باعث اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی براہ راست مرتب ہوئے ہیں۔

پاکستان میں سونے کی قیمتوں پر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بھی اہم اثر ڈالتی ہے۔ جب روپے کی قدر کم ہوتی ہے تو درآمدی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں، جس کا اثر سونے کی قیمت پر بھی پڑتا ہے کیونکہ سونا بین الاقوامی منڈی سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اسی طرح عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں اضافہ بھی مقامی نرخوں کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

صرافہ بازار کے تاجر اس صورتحال کو کاروباری لحاظ سے ایک چیلنج قرار دے رہے ہیں، کیونکہ قیمتوں میں تیزی کے باعث خریداری کا رجحان کم ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں، جو زیورات کی خریداری کے خواہشمند ہوتے ہیں۔

تاہم کچھ سرمایہ کار اس صورتحال کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں، کیونکہ سونے کی قیمت میں اضافے سے پہلے سے سرمایہ کاری کرنے والوں کو فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے اب بھی ایک محفوظ ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ قیمتوں پر خریداری کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف عالمی معاشی حالات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ مقامی سطح پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اگر عالمی مارکیٹ میں استحکام آتا ہے تو قیمتوں میں کمی بھی ممکن ہے، تاہم فی الحال قیمتی دھاتوں کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

[فرمان الہی]
[نماز کے اوقات]