جنوبی کوریا میں 20 سال بعد خاتون وزیر اعظم نامزد، ہان سیونگ سوک کا انتخاب
ہان سیونگ سوک وزیر اعظم نامزد ہونے کے بعد جنوبی کوریا کی سیاست میں ایک اہم سنگِ میل قائم ہو گیا ہے۔ صدر لی جے میونگ نے معروف کاروباری اور ٹیکنالوجی ماہر ہان سیونگ سوک کو ملک کا نیا وزیر اعظم نامزد کر دیا ہے۔
یہ نامزدگی اس لحاظ سے تاریخی اہمیت رکھتی ہے کہ تقریباً 20 برس بعد کسی خاتون کو جنوبی کوریا میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ سیاسی اور معاشی حلقوں میں اس فیصلے کو خواتین کی قیادت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہان سیونگ سوک جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی Naver کی سابق چیف ایگزیکٹو رہ چکی ہیں۔ انہیں ملک کے ڈیجیٹل، اسٹارٹ اپ اور ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
صدر لی جے میونگ نے اپنی نامزدگی کے اعلان میں کہا کہ ہان سیونگ سوک کی مہارت جنوبی کوریا کو مستقبل کی معیشت کی جانب تیزی سے لے جانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، جدید ٹیکنالوجی اور کاروباری جدت کو قومی ترقی کا بنیادی ستون بنانا چاہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہان سیونگ سوک کی نامزدگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنوبی کوریا آنے والے برسوں میں ٹیکنالوجی اور اے آئی کے شعبوں میں عالمی مسابقت کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی نجی شعبے، کاروباری جدت اور ڈیجیٹل ترقی کے تجربات سے بھرپور رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خواتین کی نمائندگی کے فروغ اور جدید معاشی وژن کے امتزاج کی علامت بھی سمجھا جا رہا ہے۔ جنوبی کوریا میں اعلیٰ حکومتی مناصب پر خواتین کی تعداد محدود رہی ہے، اس لیے یہ پیش رفت خاص توجہ حاصل کر رہی ہے۔
تاہم ہان سیونگ سوک کی تقرری ابھی حتمی نہیں ہوئی۔ جنوبی کوریا کے آئینی طریقہ کار کے مطابق ان کی نامزدگی کی توثیق کے لیے نیشنل اسمبلی میں سماعت اور منظوری درکار ہوگی۔ اسمبلی کی منظوری کے بعد ہی وہ باضابطہ طور پر وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال سکیں گی۔
عالمی مبصرین اس فیصلے کو جنوبی کوریا میں سیاسی اور معاشی ترجیحات کی نئی سمت قرار دے رہے ہیں، جہاں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اختراعی معیشت کو مستقبل کی ترقی کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔








