شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس، مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پاکستان سرگرم
اسلام آباد: خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینئر وفاقی وزراء، سکیورٹی اداروں کے نمائندگان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں حالیہ توسیع کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرے گا اور ایران و امریکا کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کو یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کرے گا۔ شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں سفارت کاری ہی وہ مؤثر راستہ ہے جس کے ذریعے کشیدگی کو کم کیا جا سکتا ہے اور کسی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی قیادت ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گی تاکہ مذاکراتی عمل میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق آج بھی اعلیٰ سطحی رابطوں کا امکان ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان امن عمل کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی جائے گی۔
شرکاء نے امریکا کے صدر کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ یہ اقدام خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکتا ہے۔
Amb. Reza Amiri Moghadam, Ambassador of the Islamic Republic of Iran, called on Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif on 22.4.2026 to discuss the ongoing regional situation and peace efforts. pic.twitter.com/C7SMgPwrGl
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) April 22, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کا حامی رہا ہے اور اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ سفارتی سطح پر روابط کو مزید مؤثر بنائیں اور عالمی برادری کے ساتھ بھی قریبی رابطہ رکھیں تاکہ امن عمل کو تقویت دی جا سکے۔
اجلاس میں سکیورٹی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا کہ ملک کے اندرونی امن و امان کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔ حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ادارے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششیں نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں بلکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر ہو رہا ہے۔ اس عمل میں کامیابی کی صورت میں پاکستان ایک مؤثر ثالث کے طور پر اپنی حیثیت مزید مستحکم کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا یہ اجلاس خطے کی موجودہ صورتحال میں نہایت اہمیت کا حامل ہے، جس میں کیے گئے فیصلے آنے والے دنوں میں سفارتی پیش رفت اور امن عمل پر مثبت اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

