اسلام آباد کا پہلا کرکٹ اسٹیڈیم حقیقت کے قریب، سی ڈی اے نے 11.9 ارب روپے کے منصوبے پر پیش رفت تیز کر دی

اسلام آباد کا پہلا کرکٹ اسٹیڈیم کے منصوبے کی نمائشی تصویر
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

اسلام آباد کا پہلا کرکٹ اسٹیڈیم حقیقت کے قریب، سی ڈی اے نے 11.9 ارب روپے کے منصوبے پر پیش رفت تیز کر دی

اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے پہلے بین الاقوامی معیار کے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے منصوبے پر پیش رفت تیز کرتے ہوئے اپنے کنسلٹنٹ کو ہدایت کی ہے کہ ٹھیکیدار کی جانب سے دی گئی تعمیراتی لاگت کا فوری جائزہ مکمل کیا جائے تاکہ ورک آرڈر جاری کیے جا سکیں۔

یہ مجوزہ کرکٹ اسٹیڈیم ڈی-12 کے قریب مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں زون تھری میں تعمیر کیا جائے گا۔ سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد کا پہلا کرکٹ اسٹیڈیم کا ڈیزائن دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم سے متاثر ہوگا اور اس میں تقریباً 35 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے پاکستان بھر میں بارشوں سے متعلق موسمی وارننگ
این ڈی ایم اے نے 5 اگست تک ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی ہے۔

منصوبے کی مجموعی لاگت 11.9 ارب روپے رکھی گئی ہے، جبکہ اسلام آباد کا پہلا کرکٹ اسٹیڈیم اور متعلقہ انفراسٹرکچر پر مشتمل تعمیراتی کام کے لیے حبیب کنسٹرکشن سروسز اور ZKB-EA کے مشترکہ منصوبے نے تقریباً 8.9 ارب روپے کی کم ترین بولی دی ہے۔ منصوبے میں تین کلومیٹر طویل سڑکوں کا نیٹ ورک بھی شامل ہوگا، جبکہ تعمیر شدہ رقبہ 6 لاکھ مربع فٹ سے زائد ہوگا۔

نرخوں کا جائزہ، جلد ورک آرڈر جاری ہونے کا امکان

سی ڈی اے کے رکن ماحولیات عبداللہ خرم نیازی کی زیر صدارت اجلاس میں کنسلٹنٹس، ٹھیکیدار اور متعلقہ حکام نے بل آف کوانٹٹیز، منصوبے کے دائرۂ کار اور دیگر تکنیکی امور پر غور کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نرخوں کی جانچ مکمل ہوتے ہی تعمیراتی کام کے لیے ورک آرڈر جاری کر دیے جائیں گے۔

زون تھری میں تعمیر پر قانونی سوالات

اسٹیڈیم کا مقام مارگلہ ہلز نیشنل پارک سے باہر ضرور ہے، تاہم یہ زون III میں واقع ہے جہاں 1992 کے آئی سی ٹی زوننگ ریگولیشنز کے تحت زمین کے استعمال میں تبدیلی پر پابندی ہے، البتہ تفریحی منصوبوں کی اجازت موجود ہے۔

سی ڈی اے حکام کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد کا پہلا کرکٹ اسٹیڈیم ایک تفریحی منصوبہ ہے، اس لیے اس کی تعمیر قواعد کے مطابق ہے اور سی ڈی اے بورڈ سے منظوری بھی حاصل کی جا چکی ہے۔

ہوٹل اور کمرشل ایریا کا فیصلہ وفاق کرے گا

وفاقی وزیر سردار محمد یوسف صوبہ ہزارہ کے قیام سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے
وفاقی وزیر سردار محمد یوسف اور سینیٹر طلحہ محمود نے صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ دہرایا۔

175 ایکڑ پر مشتمل اس پورے منصوبے میں مستقبل میں اولمپک ولیج، مختلف کھیلوں کی سہولیات، ہوٹل اور کمرشل ایریا بھی شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم سی ڈی اے کے ترجمان شاہد کیانی کے مطابق ہوٹل اور کمرشل حصے پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی منظوری درکار ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت صرف اسلام آباد کا پہلا کرکٹ اسٹیڈیم کا منصوبہ آگے بڑھایا جا رہا ہے جبکہ دیگر تجارتی منصوبوں کا مستقبل وفاقی کابینہ کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔

زون تھری کی منصوبہ بندی پر بحث برقرار

زون III گزشتہ کئی برسوں سے شہری منصوبہ بندی کا اہم موضوع رہا ہے۔ سی ڈی اے ماضی میں شاہ اللہ دتہ اور دیگر دیہات کو قریبی زونز میں ضم کرنے کی تجویز بھی دے چکا ہے، تاہم اس پر تاحال کوئی حتمی حکومتی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

حکام کے مطابق اصل ماسٹر پلان میں اس علاقے کو گرین زون قرار دیا گیا تھا، اس لیے ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

READ MORE FAQS”

سوال 1: اسلام آباد کا نیا کرکٹ اسٹیڈیم کہاں تعمیر ہوگا؟

جواب: مجوزہ کرکٹ اسٹیڈیم اسلام آباد کے سیکٹر D-12 کے قریب مارگلہ ہلز کے دامن میں زون III میں تعمیر کیا جائے گا۔

سوال 2: اسلام آباد کا پہلا کرکٹ اسٹیڈیم میں کتنے شائقین کی گنجائش ہوگی؟

جواب: منصوبے کے مطابق اسٹیڈیم میں تقریباً 35 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔

سوال 3: منصوبے کی مجموعی لاگت کتنی ہے؟

جواب: اسلام آباد کرکٹ اسٹیڈیم کی مجموعی تخمینہ لاگت 11.9 ارب روپے مقرر کی گئی ہے۔

سوال 4: منصوبہ کب شروع ہونے کا امکان ہے؟

جواب: سی ڈی اے کے مطابق تعمیراتی نرخوں کی جانچ مکمل ہونے کے بعد ورک آرڈر جاری کیے جائیں گے، جس کے بعد منصوبے پر عملی کام شروع ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں