اسد قیصر کے گھر آئی ایس آئی افسران کی موجودگی میں قانون سازی ہوتی رہی: خواجہ آصف
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اینٹی منی لانڈرنگ سمیت متعدد اہم قوانین پر کام کے دوران اسد قیصر کے گھر آئی ایس آئی افسران کی موجودگی میں مشاورت اور قانون سازی کی جاتی رہی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا جہاں وفاقی بجٹ پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وہ سچ بول کر اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں قانون سازی کے عمل میں آئی ایس آئی افسران بھی شامل ہوتے تھے اور اینٹی منی لانڈرنگ سمیت مختلف قوانین کی تیاری اور ترامیم پر مشاورت کی جاتی تھی۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے گھر جنرل فیض حمید کی جانب سے بھیجے گئے افراد کے ساتھ مذاکرات ہوتے تھے اور کئی مواقع پر قانون سازی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جاتا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ اسد قیصر کے گھر آئی ایس آئی افسران کی موجودگی میں قوانین کی نوک پلک درست کی جاتی تھی۔ ان کے مطابق جو لوگ آج حکومت پر تنقید کرتے ہیں، ماضی میں وہ خود بھی اسی طرز عمل کا حصہ رہے ہیں۔
ان کے اس بیان کے بعد قومی اسمبلی میں سیاسی ماحول مزید گرم ہوگیا اور حکومتی و اپوزیشن ارکان کے درمیان نعرے بازی اور سخت جملوں کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔
خواجہ آصف کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ماضی کی قانون سازی اور سیاسی مشاورت کے طریقہ کار پر نئی بحث شروع ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس 27-2026 کے دوران وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ محمد آصف کا اظہار خیال
(2/2)@KhawajaMAsif#BudgetSession pic.twitter.com/2ev5oUzWSd
— National Assembly 🇵🇰 (@NAofPakistan) June 16, 2026
READ MORE FAQS”
سوال: خواجہ آصف نے کیا اعتراف کیا؟
جواب: خواجہ آصف نے کہا کہ اینٹی منی لانڈرنگ سمیت متعدد قوانین پر اسد قیصر کے گھر آئی ایس آئی افسران کی موجودگی میں مشاورت اور قانون سازی کی جاتی تھی۔
سوال: یہ بیان کہاں دیا گیا؟
جواب: وزیر دفاع نے یہ بیان قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران دیا۔
سوال: خواجہ آصف نے جنرل فیض کا کیا ذکر کیا؟
جواب: انہوں نے کہا کہ سابق اسپیکر اسد قیصر کے گھر جنرل فیض کے بھیجے ہوئے افراد کے ساتھ مذاکرات ہوتے تھے۔
سوال: اس بیان کی سیاسی اہمیت کیا ہے؟
جواب: اس بیان سے ماضی کی قانون سازی اور سیاسی مشاورت میں اداروں کے کردار پر نئی سیاسی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔






