لاہور ہائیکورٹ نے ایم ڈی کیٹ امتحان ملتوی کرنے کی درخواست خارج کر دی
ایم ڈی کیٹ امتحان ملتوی درخواست مسترد ہونے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلوں کے لیے ہونے والے امتحان کو مقررہ شیڈول کے مطابق منعقد کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس مرزا وقاص رؤف نے درخواست کی سماعت کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سینکڑوں طلبہ اس وقت ایف ایس سی کے عملی (پریکٹیکل) امتحانات میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے لیے مناسب وقت نہیں مل سکا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے باہر بھی بڑی تعداد میں طلبہ موجود ہیں جو امتحان ملتوی کیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں طلبہ کو مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے امتحان کی تاریخ آگے بڑھائی جانی چاہیے۔
سماعت کے دوران جسٹس مرزا وقاص رؤف نے وکیل سے استفسار کیا کہ عدالت کے سامنے صرف ایک درخواست گزار موجود ہے، پھر وہ تمام طلبہ کی نمائندگی کیسے کر رہے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے:
"ہمارے سامنے صرف ایک درخواست گزار ہے، آپ سب کا ٹھیکہ کیوں لے رہے ہیں؟"
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایم ڈی کیٹ امتحان ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے خارج کر دی۔
اس فیصلے کے بعد فی الحال ایم ڈی کیٹ امتحان کے مقررہ شیڈول میں کسی عدالتی مداخلت کا امکان نظر نہیں آتا، تاہم اگر متعلقہ امتحانی اتھارٹی الگ سے کوئی فیصلہ کرے تو صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔
میڈیکل تعلیم کے خواہشمند طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ ایک اہم داخلہ امتحان ہے، جس کی بنیاد پر پاکستان کے سرکاری اور نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں داخلے دیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے امتحان کی تاریخ، تیاری کے وقت اور امتحانی شیڈول سے متعلق معاملات ہر سال طلبہ کی خصوصی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔
READ MORE FAQS
- لاہور ہائیکورٹ نے کیا فیصلہ دیا؟
عدالت نے ایم ڈی کیٹ امتحان ملتوی کرنے کی درخواست خارج کر دی۔
- درخواست میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا تھا؟
درخواست گزار کے مطابق ایف ایس سی کے پریکٹیکل امتحانات کی وجہ سے طلبہ کو ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے لیے مناسب وقت نہیں مل سکا۔
- عدالت نے کیا ریمارکس دیے؟
عدالت نے کہا کہ اس کے سامنے صرف ایک درخواست گزار موجود ہے اور سوال کیا کہ وکیل تمام طلبہ کی نمائندگی کیسے کر رہے ہیں۔
- کیا ایم ڈی کیٹ امتحان ملتوی ہو گیا؟
عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست مسترد ہونے کے بعد امتحان اپنے موجودہ شیڈول کے مطابق ہونے کا امکان برقرار ہے، جب تک متعلقہ امتحانی ادارہ کوئی نیا فیصلہ نہ کرے۔








