
علیمہ خان کا عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست
علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ اور دیگر حکام کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔

علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ اور دیگر حکام کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی۔

سینیٹ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں کے مسئلے پر پی ٹی آئی نے شدید احتجاج کیا، ڈائس بجا کر نعرہ بازی کی جبکہ حکومت نے سوشل میڈیا رپورٹس کو پروپیگنڈا قرار دے دیا۔

اڈیالہ جیل ذرائع کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان مکمل طور پر صحت مند ہیں اور انہیں جیل میں ٹی وی، اخبار، ہفتہ وار ملاقاتیں اور باہر سے صحت بخش کھانا منگوانے کی سہولت حاصل ہے۔

پنجاب حکومت کی ”اپنی زمین، اپنا گھر‘‘ اسکیم کے تحت 3 مرلہ رہائشی پلاٹس کی ڈیجیٹل قرعہ اندازی مکمل کرلی گئی جس میں 19 اضلاع کے 2 ہزار مستحق شہریوں کو پلاٹ مل گئے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا ہے کہ پلاٹ مالکان کو گھر کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے تک قرض آسان اقساط میں دیا جائے گا۔

راولپنڈی میں پولیس نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو آٹھویں مرتبہ اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا۔ وزیراعلیٰ نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا اور وفاقی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔

توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت 20 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلاء کو نئی تاریخ سے آگاہ کر دیا گیا۔ اسپیشل جج سینٹرل ایف آئی اے نے کیس کی سماعت کے دوران فیصلہ سنایا۔

جے یو آئی نے فرخ کھوکھر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے حکومتی افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا خطاب ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کے بعد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اکیلا مجرم نہیں، اس کو لانے والے بھی برابر کے شریک ہیں۔ مسلم لیگ ن نے عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کیا اور پاکستان کو اخلاقی و معاشرتی دیوالیہ پن سے بچایا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے 27ویں آئینی ترمیم کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں جے یو آئی کے ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ترمیم اور متعلقہ قوانین پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم حکومت کے ساتھ باہمی مشاورت سے منظور ہوئی تھی، مگر 27ویں ترمیم میں جے یو آئی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔

پنجاب اسمبلی پی اے سی بحران سنگین ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی ارکان کے مسلسل استعفوں اور سیاسی تعطل کے باعث کئی ماہ سے احتسابی عمل رک چکا ہے۔