پنجاب میں طوفانی بارشوں سے تباہی، خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق، سیلابی الرٹ جاری

پنجاب میں طوفانی بارشوں کے بعد تباہی
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

پنجاب میں طوفانی بارشوں سے تباہی، خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق، محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کا مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال سے متعلق الرٹ جاری

لاہور: پنجاب بھر میں جاری مون سون کی طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، مختلف اضلاع میں چھتیں گرنے اور برساتی پانی میں ڈوبنے کے واقعات کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 10 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ پنجاب میں طوفانی بارشوں کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جبکہ محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔

لاہور میں موسلادھار بارش کے دوران مختلف مقامات پر چھتیں گرنے کے واقعات پیش آئے، جن میں ایک خاتون سمیت تین افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

قصور میں مکان کی چھت گرنے سے دو افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے، جبکہ گجرات میں ایک گھر کی چھت منہدم ہونے سے تین بہن بھائی زندگی کی بازی ہار گئے۔

خیبرپختونخوا بارشیں اور فلش فلڈ سے تباہی
خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں اور فلش فلڈز کے باعث متعدد علاقوں میں جانی و مالی نقصان، پی ڈی ایم اے کی امدادی کارروائیاں جاری۔

حجرہ شاہ مقیم میں چھت گرنے کے باعث ایک خاتون جاں بحق اور چار افراد زخمی ہوئے، جبکہ گوجرانوالہ میں برساتی پانی میں ڈوبنے سے ایک کمسن بچہ جاں بحق ہوگیا۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں 27 جولائی تک مزید گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے، پنجاب میں طوفانی بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ اور مختلف مقامات پر سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں کے بعد دریاؤں کی صورتحال پر تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے دریاؤں کا بہاؤ مجموعی طور پر مستحکم رہا، تاہم بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جبکہ دریائے چناب میں پانی کی سطح میں کمی آنے کے باوجود مرالہ، خانکی، قادر آباد اور تریموں کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔

اسی طرح دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے مقام پر بھی نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں درمیانے درجے اور نالہ پھلکو میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ریکارڈ کی گئی ہے۔

پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ نے پنجاب میں طوفانی بارش کے باعث شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، ندی نالوں اور برساتی ریلوں سے دور رہنے، خستہ حال عمارتوں میں رہائش سے اجتناب کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال 1: پنجاب میں بارشوں سے کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟
جواب: مختلف شہروں میں چھتیں گرنے اور برساتی پانی میں ڈوبنے کے واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق ہوئے۔

سوال 2: سب سے زیادہ متاثرہ علاقے کون سے ہیں؟
جواب: لاہور، قصور، گجرات، حجرہ شاہ مقیم، گوجرانوالہ اور دیگر اضلاع شدید بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

سوال 3: کیا مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے؟
جواب: جی ہاں، محکمہ موسمیات نے 27 جولائی تک پنجاب سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں مزید گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔

سوال 4: کن دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے؟
جواب: دریائے سندھ، دریائے چناب اور دریائے راوی کے مختلف مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں درمیانے اور نالہ پھلکو میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال رپورٹ ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں