شہباز شریف اور رجب طیب اردوان کا پاک ترکیہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم، 5 ارب ڈالر تجارتی ہدف پر اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف اور رجب طیب اردوان استنبول میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

شہباز شریف اور رجب طیب اردوان کا پاکستان اور ترکیہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار، 5 ارب ڈالر تجارتی ہدف پر اتفاق

استنبول: وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر کی جانب سے پرتپاک استقبال اور شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام کے درمیان تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ دلوں کے رشتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی جنگ آزادی کے دوران برصغیر کے مسلمانوں نے بھرپور حمایت کی، جبکہ دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ زلزلے، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے دوران ترکیہ کی جانب سے پاکستان کی مدد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کے بقول مولانا جلال الدین رومی اور علامہ محمد اقبال کی تعلیمات دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوط بنیاد ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ترک سرمایہ کاروں سے اہم ملاقاتیں
وزیراعظم شہباز شریف کی استنبول میں ترک کاروباری رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں

وزیراعظم نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے اقتصادی، صنعتی اور دفاعی شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے اور پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی پر فخر کرتا ہے۔

شہباز شریف اور رجب طیب اردوان کی ملاقات میں دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے، سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی تعاون اور مختلف اقتصادی شعبوں میں شراکت داری پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے قبرص کے مسئلے پر ترکیہ کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی مسلسل حمایت کرنے پر ترک قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

بعد ازاں پاکستان-ترکیہ بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کا قابل اعتماد اور مخلص اتحادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر، نجکاری، خصوصی اقتصادی زونز، آئی ٹی اور متبادل توانائی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے صنعتی تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے، خصوصاً توانائی کے شعبے، ڈسکوز کی نجکاری اور ٹرانسمیشن سسٹم کی بہتری میں ترکیہ کے تجربات پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں پاکستان نے مخلصانہ سفارتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی، اور اب اس امن کو خطے کی خوشحالی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے اپنی خودمختاری اور وقار کا بھرپور دفاع کیا، جبکہ اس مشکل وقت میں ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ صرف دوست نہیں بلکہ حقیقی بھائی ہیں اور دونوں ممالک کی شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہوگی۔

وزیراعظم شہباز شریف سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچنے پر ترک حکام کے استقبال کے دوران
وزیراعظم شہباز شریف کا استنبول پہنچنے پر پرتپاک استقبال

ترک صدر رجب طیب اردوان کا بیان

ترک صدر رجب طیب اردوان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اور رجب طیب اردوان کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر انتہائی مفید بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھیں گے۔

صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ کی متعلقہ وزارتیں پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے قریبی رابطے میں رہیں گی اور ترک کاروباری برادری کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی بھرپور ترغیب دی جائے گی۔

شہباز شریف اور رجب طیب اردوان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ترکیہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے امن، ترقی اور خوشحالی کے نئے باب رقم کریں گے۔

 
READ MORE FAQS”

سوال: شہباز شریف اور رجب طیب اردوان کی ملاقات میں کن امور پر بات ہوئی؟
جواب: دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، خصوصی اقتصادی زونز، علاقائی امن اور اقتصادی تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

سوال: دونوں ممالک نے تجارتی حجم کا کیا ہدف مقرر کیا؟
جواب: پاکستان اور ترکیہ نے دوطرفہ تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سوال: وزیراعظم نے ترکیہ سے کن شعبوں میں تعاون کی خواہش ظاہر کی؟
جواب: توانائی، نجکاری، انفراسٹرکچر، خصوصی اقتصادی زونز، آئی ٹی، متبادل توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں۔

سوال: ترک صدر اردوان نے کیا یقین دہانی کرائی؟
جواب: انہوں نے کہا کہ ترک حکومت اور کاروباری برادری پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

متعلقہ خبریں