اسپائیڈر مین آف یمن الققع بن عنتر 120 میٹر گہرے گڑھے میں چڑھائی کے دوران نیچے گر کر جاں بحق، بغیر حفاظتی رسوں اور خصوصی آلات کے بلند و بالا چٹانوں پر چڑھنے باعث سوشل میڈیا پر بے حد مقبول تھے
صنعاء: یمن میں سوشل میڈیا پر “اسپائیڈر مین آف یمن” کے نام سے شہرت حاصل کرنے والے معروف فری کلائمبر الققع بن عنتر ایک افسوسناک حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ الققع بن عنتر جنوبی یمن کے صوبے الضالع میں واقع حرضۃ دمت آتش فشاں کے تقریباً 120 میٹر گہرے گڑھے میں چڑھائی کے دوران نیچے گر گئے، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
الققع بن عنتر بغیر حفاظتی رسوں اور خصوصی آلات کے بلند و بالا چٹانوں، پہاڑوں اور خطرناک مقامات پر چڑھنے کی ویڈیوز کے باعث سوشل میڈیا پر بے حد مقبول تھے۔ ان کی جرات مندانہ مہم جوئی نے انہیں “اسپائیڈر مین آف یمن” کا لقب دلوایا تھا۔
حادثے کے بعد مقامی سول ڈیفنس اور ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سرچ اینڈ ریکوری آپریشن شروع کیا، تاہم دشوار گزار راستوں اور پیچیدہ جغرافیائی صورتحال کے باعث امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل ثابت ہوئیں۔
تقریباً 24 گھنٹے تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد امدادی اہلکاروں نے الققع بن عنتر کی لاش گہرے گڑھے سے نکال لی۔
یمنی میڈیا رپورٹس کے مطابق الققع بن عنتر نے متعدد مواقع پر اپنی خطرناک سرگرمیوں کے پیچھے معاشی مشکلات کو وجہ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ویڈیوز کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے اور اپنے خاندان کی کفالت کی کوشش کرتے تھے۔
ان کی اچانک موت کی خبر نے ان کے مداحوں کو غمزدہ کر دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر صارفین انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی جرات، عزم اور منفرد صلاحیتوں کو یاد کر رہے ہیں۔
Tragic end for Spider-Man Yemen after falling into the crater of an extinct volcano in the city of Damt in the center of the country pic.twitter.com/ecA9dOtdXu
— Arab world (@Arabbeau) June 12, 2026
READ MORE FAQS”
سوال: الققع بن عنتر کون تھے؟
جواب: الققع بن عنتر یمن کے معروف فری کلائمبر اور سوشل میڈیا شخصیت تھے، جو “اسپائیڈر مین آف یمن” کے نام سے مشہور تھے۔
سوال: ان کی موت کیسے ہوئی؟
جواب: وہ حرضۃ دمت آتش فشاں کے تقریباً 120 میٹر گہرے گڑھے میں چڑھائی کے دوران گرنے سے جاں بحق ہوئے۔
سوال: کیا وہ حفاظتی آلات استعمال کرتے تھے؟
جواب: نہیں، وہ عموماً بغیر حفاظتی رسوں اور آلات کے خطرناک مقامات پر چڑھائی کرتے تھے۔
سوال: ریسکیو آپریشن میں کتنا وقت لگا؟
جواب: مقامی ریسکیو ٹیموں نے تقریباً 24 گھنٹے طویل آپریشن کے بعد ان کی لاش برآمد کی۔
سوال: الققع بن عنتر اپنی ویڈیوز کیوں بناتے تھے؟
جواب: یمنی میڈیا کے مطابق انہوں نے معاشی مجبوری کو اپنی خطرناک سرگرمیوں کی ایک بڑی وجہ قرار دیا تھا اور ویڈیوز کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔






