ٹرمپ کا ایران معاہدہ متنازع، ڈیموکریٹس نے اسے “ہتھیار ڈالنے کی دستاویز” قرار دے دیا

ٹرمپ کے ایران معاہدے پر امریکی ڈیموکریٹس کی تنقید
Facebook
X
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

امریکا میں ایران معاہدے پر سیاسی بحران، ڈیموکریٹس کی ٹرمپ پر شدید تنقید

ٹرمپ کا ایران معاہدہ امریکی سیاسی حلقوں میں ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے، جہاں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے مجوزہ معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیا ہے۔

واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈم شف نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق بیانات بار بار سامنے آتے رہے ہیں لیکن ان کے نتائج ہمیشہ غیر یقینی رہے ہیں۔

ایڈم شف کے مطابق امریکی عوام کو ماضی میں بھی ایسے وعدوں کا سامنا رہا ہے جن پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا، جس کے باعث عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں تسلسل اور حقیقت پسندی ضروری ہے تاکہ ملک کو غیر ضروری بحرانوں سے بچایا جا سکے۔

اسی طرح ڈیموکریٹ رکن کانگریس سیٹھ مولٹن نے مجوزہ ایران معاہدے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “سرنڈر ڈاکیومنٹ” یعنی ہتھیار ڈالنے کی دستاویز قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ امریکی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سیٹھ مولٹن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکی وسائل اور جانوں کا بڑا نقصان ہوا، لیکن مجوزہ معاہدے میں حاصل ہونے والے فوائد محدود دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف محدود نوعیت کی سفارتی کامیابی کو بڑے سیاسی حل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے پہلے ہی کھلے تھے تو معاہدے کے بعد اسے بڑی کامیابی کے طور پر کیوں پیش کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب اہم قدم قرار دے رہی ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام لانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

تاہم امریکی سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ رہنما مختلف زاویوں سے اس معاہدے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اسے امریکی خارجہ پالیسی کے مستقبل کے لیے اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ آگے بڑھتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست پر مرتب ہوں گے۔

READ MORE FAQS
  1. ٹرمپ کا ایران معاہدہ کیوں متنازع بنا؟

ڈیموکریٹس نے اسے امریکی مفادات کے خلاف اور “سرنڈر ڈاکیومنٹ” قرار دیا ہے۔

  1. کس ڈیموکریٹ رہنما نے معاہدے پر تنقید کی؟

سینیٹر ایڈم شف اور کانگریس رکن سیٹھ مولٹن نے شدید تنقید کی۔

  1. سیٹھ مولٹن نے کیا کہا؟

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کے سامنے امریکی پسپائی کے مترادف ہے۔

  1. ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف کیا ہے؟

انتظامیہ کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں امن کی جانب اہم قدم ہے۔

متعلقہ خبریں

ابھی تک کوئی فرمان الہی شامل نہیں۔

🕌 نماز کے اوقات

فجر---
طلوع آفتاب---
ظہر---
عصر---
مغرب---
عشاء---