یوکرین کے ڈرون حملے، روس کی دو آئل ریفائنریاں نشانہ، ایندھن سپلائی پر بڑا اثر
یوکرین کا روس پر بڑا وار ایک بار پھر جنگ کے نئے مرحلے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق روس کے کراسنودار اور یاروسلاول علاقوں میں واقع دو اہم آئل ریفائنریوں کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں تنصیبات پر شدید آگ بھڑک اٹھی۔
یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد روس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا اور اس کی ایندھن سپلائی کو متاثر کرنا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین مستقبل میں بھی روسی فوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی جاری رکھے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں روس کی سلاویانسک آئل ریفائنری بھی متاثر ہوئی، جس کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً ایک لاکھ بیرل خام تیل ہے۔ حملے کے بعد ریفائنری میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جسے بجھانے کے لیے ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی متعدد ٹیمیں تعینات کی گئیں۔
کراسنودار کے مقامی حکام کے مطابق واقعے میں ایک شخص ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا۔ دوسری جانب یاروسلاول کے علاقے میں بھی حملے کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر بعض اہم شاہراہوں پر عارضی سفری پابندیاں نافذ کر دی گئیں۔
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے فوجی اور توانائی کے انفراسٹرکچر کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں مسلسل حملوں کے باعث ایندھن کی قلت، بجلی کی بندش اور راشن بندی جیسے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے مقامی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس کی آئل ریفائنریوں پر حملے نہ صرف فوجی کارروائیوں بلکہ توانائی کی سپلائی چین پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ حملے مسلسل جاری رہے تو روس کی دفاعی اور صنعتی سرگرمیوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے حالیہ صورتحال کو مشکل قرار دیتے ہوئے جنگی حالات کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجز کا اعتراف کیا ہے، تاہم روسی حکومت کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اب صرف محاذ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ توانائی، معیشت اور بنیادی انفراسٹرکچر بھی براہِ راست اس تنازع کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور توانائی کی فراہمی پر بھی اس جنگ کے اثرات مسلسل دیکھے جا رہے ہیں۔
READ MORE FAQS
- یوکرین نے روس میں کہاں حملہ کیا؟
یوکرین نے روس کے کراسنودار اور یاروسلاول علاقوں میں واقع آئل ریفائنریوں کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
- حملے میں کتنے افراد متاثر ہوئے؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک شخص ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا۔
- حملے کا مقصد کیا بتایا گیا؟
یوکرین کے مطابق مقصد روس کی جنگی صلاحیت اور ایندھن کی سپلائی کو کمزور کرنا ہے۔
- کیا روس نے حملے کی تصدیق کی؟
مقامی روسی حکام نے متعلقہ علاقوں میں آگ لگنے اور نقصان کی تصدیق کی، تاہم جنگی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔








