ایف بی آر کا بڑا فیصلہ: یورپ سے درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹی و ٹیکس براہِ راست مقرر ہوں گے
بیرونِ ملک سے درآمد کی جانے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے تعین کے نظام میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی متعارف کرا دی گئی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس عمل میں شامل مقامی ایجنٹس کے کردار کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کسٹمز جنرل آرڈر (CGO) جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو شفافیت، خودکار نظام اور درآمدی عمل میں اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
جنگ اور دی نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اب بیرونِ ملک سے درآمد ہونے والی گاڑیوں، خصوصاً یورپ سے آنے والی گاڑیوں پر ڈیوٹی اور ٹیکس کا تعین مقامی مجاز ایجنٹس کے ذریعے نہیں کیا جائے گا۔ اس نئے نظام کے تحت ٹیکس اور ڈیوٹی کا تعین براہِ راست سرکاری قواعد و ضوابط اور ڈیجیٹل ڈیٹا کی بنیاد پر ہوگا۔
ماضی میں صورتِ حال یہ تھی کہ نئی اور استعمال شدہ دونوں اقسام کی گاڑیوں کی درآمد کے وقت مقامی ایجنٹس ایک کلیدی کردار ادا کرتے تھے۔ یہی ایجنٹس گاڑی کی مالیت، ماڈل، انجن کی گنجائش، سالِ تیاری اور دیگر تکنیکی تفصیلات کی بنیاد پر ڈیوٹی اور ٹیکس کا تخمینہ لگاتے تھے۔ تاہم، اس نظام پر طویل عرصے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا تھا، کیونکہ اس میں انسانی مداخلت کے باعث غلط بیانی، کم ویلیو دکھانے اور کرپشن کے امکانات موجود تھے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق مقامی ایجنٹس کے ذریعے ٹیکسوں کے تعین سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا تھا بلکہ درآمد کنندگان کو بھی اکثر غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ایک ہی ماڈل کی گاڑی پر مختلف ایجنٹس کی جانب سے مختلف ڈیوٹی عائد کی جاتی تھی، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھتے تھے۔ یہی وجوہات تھیں جن کی بنا پر حکومت نے اس نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
نئے کسٹمز جنرل آرڈر کے تحت یورپ سے درآمد ہونے والی گاڑیوں کی ویلیو کا تعین بین الاقوامی ڈیٹا بیس، مینوفیکچرر کی فراہم کردہ قیمتوں، اور عالمی مارکیٹ کے مستند حوالوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس طرح انسانی مداخلت کم سے کم ہو جائے گی اور ٹیکسوں کے تعین کا عمل زیادہ منصفانہ اور یکساں ہو سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے کسٹمز اور ٹیکسیشن نظام کو ڈیجیٹل اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ایف بی آر پہلے ہی کئی شعبوں میں آٹومیشن اور ڈیجیٹلائزیشن پر کام کر رہا ہے، اور گاڑیوں کی درآمد کے شعبے میں یہ اقدام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
دوسری جانب، مقامی ایجنٹس سے وابستہ حلقوں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوگا بلکہ درآمدی عمل میں پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر ان درآمد کنندگان کے لیے جو تکنیکی اور قانونی تقاضوں سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتے۔ تاہم، ایف بی آر حکام کا مؤقف ہے کہ نئے نظام کے تحت واضح رہنمائی اور آن لائن سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ درآمد کنندگان کو کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
درآمد کنندگان اور صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی ایجنٹس کے خاتمے سے غیر ضروری اخراجات کم ہوں گے اور گاڑیوں کی حتمی قیمت میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔ خاص طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانی جو ذاتی استعمال کے لیے گاڑیاں درآمد کرتے ہیں، ان کے لیے یہ فیصلہ سہولت کا باعث بن سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہ نظام مؤثر طریقے سے نافذ کر لیا گیا تو نہ صرف ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوگا بلکہ اسمگلنگ اور غلط ڈیکلریشن جیسے مسائل پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ، شفاف نظام سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کرے گا، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایف بی آر کا یہ فیصلہ ایک بڑی اصلاح کی علامت ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مؤثر نفاذ، جدید ڈیٹا بیس کے استعمال اور درآمد کنندگان کو بروقت معلومات فراہم کرنے پر ہوگا۔ اگر حکومت اس نظام کو درست سمت میں لے جانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اقدام مستقبل میں پاکستان کے کسٹمز نظام کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔

